حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 182
حقائق الفرقان ۱۸۲ سُورَةُ الْبَقَرَة بلکہ دوزخ کا نمونہ ہو جاتا ہے۔اس لئے چاہئے کہ میاں بیوی باہم نہایت خوشی اور آرام سے مل کر رہیں جھگڑا نہ کریں ایک دوسرے کی دل شکنی نہ کریں۔اور مرد خصوصیت سے عورتوں کی بعض کمزوریوں پر برداشت اور حوصلہ سے کام لیں۔الحکم جلد ۱۵ نمبر ۷ ۸ مورخه ۲۸،۲۱ فروری ۱۹۱۱ء صفحه ۴) پہلا گناہ دین میں خلیفة اللہ کے مقابل یہی تھا آبی و استكبر۔اس میں شک نہیں کہ سُنت اللہ اسی طرح پر ہے کہ ماموروں پر اعتراض ہوتے ہیں۔اچھے بھی کرتے ہیں اور بڑے بھی۔مگر اچھوں کو رجوع کرنا پڑتا ہے اور بڑے نہیں کرتے۔مگر مبارک وہی ہیں جو اعتراض سے بچتے ہیں کیونکہ نیکوں کو بھی آخر مامور کے حضور رجوع اور سجدہ کرنا ہی پڑا ہے۔پس اگر یہ ملک کی طرح بھی ہو پھر بھی اعتراض سے بچے کیونکہ خدا تو سجدہ کرائے بغیر نہ چھوڑے گا ور نہ لعنت کا طوق گلے میں پڑے الحکم جلد نمبر ۳ مورخه ۲۴ /جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۱۴) پہلا نافرمان جس کی تاریخ ہمیں معلوم ہے ابلیس ہے وہ کیوں نافرمان بن گیا اس کی خبر بھی قرآن شریف نے بتلائی ہے کہ اس نے ابی اور استکبار کیا یعنی اس میں انکار اور تکبر تھا جس کی وجہ سے وہ اسلیم کی تعمیل نہ کر سکا۔اس وقت بھی بہت لوگ ہیں کہ اس ابی اور استکبار کی وجہ سے اسلیم کی تعمیل سے محروم ہیں۔کسی کو عقل پر تکبر ہے کسی کو علم پر کسی کو اپنے بزرگوں پر جو کہ ان کے نقصان کا باعث ہو رہا ہے اور جب کبھی خدا کے مامور آتے رہے ہیں۔یہی ابی اور استکبار اُن کی محرومی کا ذریعہ ہوتے رہے ہیں۔انسان جب ایک دفعہ منہ سے نہ کر بیٹھتا ہے تو پھر اُسے دوبارہ ماننا مشکل ہو جاتا ہے اور لوگوں سے شرم کی وجہ سے وہ اپنی ہٹ پر قائم رہنا پسند کرتا ہے اس کا نتیجہ پھر کھلم کھلا انکار اور آخر کار وگان مِنَ الْكَفِرِینَ کا مصداق بننا پڑتا ہے۔الحکم جلد 9 نمبر ۷ مورخہ ۲۴ فروری ۱۹۰۵ صفحہ ۷) ابى واستكبر - تکبر اور ابی بہت بُرا مرض ہے اور آجکل کثرت سے پھیلا ہوا ہے۔فرمانبرداری بہت کم رہ گئی ہے۔فضولی ، سستی اور ساتھ ہی تکبر بہت بڑھ گیا ہے اور یہ زیادہ تر یورپ سے سیکھا گیا ہے۔افسوس ہے کہ ہمارے لوگ یورپ کی نیکیاں نہیں لیتے اور ان کی بدیاں اختیار کرتے ہیں۔( البدر۔کلام امیر حصہ دوم مورخه ۱۷ اکتوبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳۹)