حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 181
حقائق الفرقان ۱۸۱ سُورَةُ الْبَقَرَة أَلْوَانِ الْبُحُورِ وَطَيْرِ السَّمَاءِ وَالْأَنْعَامِ وَعُشُبِ الْأَرْضِ وَشَجَرِهَا وَثَمَرِهَا فَأَخْبَرَ أَنَّهُ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ قَالَ وَنَصَبَ الْفِرْدَوْسَ فَانْقَسَمَ عَلَى أَرْبَعَةِ أَنْهَارٍ - سَيْحُونَ وَ جَيْحُوْنَ وَدَجْلَةً وَفُرَات وَقَالَ مُنْذِرُ بْنُ سَعِيدٍ - هَذَا وَهَبْ ابْنُ مُنَبِّهِ يُحْكِي أَنَّ ادَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ خُلِقَ فِي الْأَرْضِ وَفِيهَا سَكَنَ وَ فِيهَا نُصِبَ لَهُ الْفِرْدَوْسُ وَ إِنَّهُ كَانَ بِعَدْنٍ إِنَّ الْأَرْبَعَةَ الْأَنْهَارِ انْقَسَمَتْ مِنْ ذَالِكَ النَّهْرُ الَّذِى كَانَ يُسَمَّى فِرْدَوْسُ أَدَمَ و تِلْكَ الْأَنْهَارُ مَعَنَا فِي الْأَرْضِ لَا اِخْتِلَافَ بَيْنَ الْمُصَلِّينَ فِي ذَالِكَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولى الْأَلْبَابِ۔( تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۱۱۱ تا ۱۱۴) ابى وَاسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكَفِرِينَ (البقرة: ۳۵) - یعنی اس نے سرکشی کی اور انکار کیا اور وہ کافروں میں سے تھا یا ہؤا۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہلاکت کو خود اس نے اپنی سرکشی سے خریدا۔خدا نے اسے بجبر ہلاک نہیں کیا۔(نورالدین بجواب ترک اسلام۔کمپیوٹرائزڈ ایڈ یشن صفحہ ۱۰۶) میں عورتوں کو درس دے رہا تھا اور میرے درس میں یہ آیت آئی۔يَادَمُ اسْكُنُ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ _ (البقرة: ٣٦) میرے دل میں اس وقت کے حسب حال اس کا یہ مفہوم ڈالا گیا کہ میاں بیوی کو جنت میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے کہ تم دونوں مل کر جنت میں رہو اور یہ جنت اس وقت تک جنت رہ سکتا ہے جب تک تم آپس میں جھگڑا نہ کرو۔جہاں میاں بیوی میں تنازعات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے پھر وہ گھر جنت نہیں اے آدم اور اس کی بی بی کو پیدا کر کے فرمایا جاؤ آباد ہو بڑھو پھولو اور زمین کو بھر دو اور طرح طرح کے دریاؤں، آسمانوں کے پرندوں ، مویشیوں، زمین کی گھاس پات اور اس کے درخت وشمر سب پر قابض ہو جاؤ پھر کہتا ہے کہ وہ ( جنت جہاں یہ پیدا ہوئے اور یہ حکم ہوا ) زمین میں ہے پھر کہتا ہے فردوس کو بنایا اور اس میں چار نہریں بنا ئیں ، سیحون ، جیحون ، دجلہ ، فرات۔(ناشر) ۲؎ اور منذر بن سعید نے کہا کہ وہب بن منبہ بیان کرتے ہیں کہ آدم علیہ السلام زمین میں پیدا کئے گئے اور اسی میں رہے اور اسی میں ان کے لئے فردوس بنائی گئی جو عدن میں تھی۔اور فردوس آدم نامی دریا چار دریاؤں میں تقسیم ہوا اور یہ چاروں زمین میں واقع ہیں۔اس بارہ میں اہلِ صلوۃ یعنی مسلمانوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَلْبَابِ (ناشر)