حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 178
حقائق الفرقان ۱۷۸ سُورَةُ الْبَقَرَة لوگوں نے جنہوں نے اس درخت کا نام ڈھونڈا ہے۔ میرے اپنے ذوق کے مطابق یہ اعتقاد ہے کہ ہر شخص کو کچھ حکم دیا جاتا ہے تو ساتھ ہی کچھ ممانعت بھی کی جاتی ہے كُلُوا وَاشْرَبُوا کے ساتھ وَلَا تُسْرِفُوا فرمایا ہے ایسا ہی آدم کو کسی بات سے جو اس کے مضر تھی روکا۔ فَتَكُونَا مِنَ الظلمین ایسا کرو گے تو اپنی جان پر بوجھ ڈالو گے ۔ آدم خدا کا مصطفے اور مجتبی تھا اور قرآن مجید میں آیا ہے۔ ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتَبَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِه (فاطر: (۳۳) جس سے معلوم ہوا کہ برگزیدہ لوگ بھی ظالم ہیں مگر وہ ظالم نہیں جن کے ظلم کا نتیجہ برا ہے بلکہ وہ نفس پر رضاء الہی کے لئے ظلم کرتے ہیں ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۷ مورخه ۱۸ رفروری ۱۹۰۹ ء صفحه (۹) چونکہ حضرت آدم کی خلافت ان کے کمال علمی کے باعث ثابت ہوگئی اور علمی کمال بطریق اولی تسبیح اور تحمید کا باعث ہوتا ہے جیسے قرآن کریم نے کہا۔ اِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا (فاطر : ۲۹) يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَتِ (المجادلة: (۱۲) تو حضرت آ آدم ملائکہ سے بڑھ گئے اور ان پر فضیلت پاگئے ۔ جن باتوں پر خلافت کا مدار ہے اس آیت میں بیان ہوئی ہیں ۔ اِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا قَالُوا أَنَّى يَكُونُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُوتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ قَالَ إِنَّ اللهَ اصْطَفَهُ عَلَيْكُمْ وَ زَادَةَ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ (البقرة: ۲۴۸) اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو حکم دیا کہ اس خلیفہ اور حاکم کی اطاعت کرو۔ البی خلفاء کی تابعداری اور فرمانبرداری انسانی ضرورت ، تمدن اور سیاست کالا بدی مسئلہ ہے۔ اسی واسطے جامع ا پھر ہم نے وارث بنا یا کتاب کا ان لوگوں کو جنہیں ہم نے منتخب کیا اپنے بندوں میں سے ( برگزیدہ بندوں کی تین قسم ہیں ) کوئی تو اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے ۔ (ناشر) کے اللہ کے بندوں سے جو اللہ سے ڈرتے ہیں وہ جاننے والے ہی ہیں۔ سے جو تم میں سے ایمان لائے اور جنہ اور جنہیں علم دیا گیا۔ اللہ ان کے درجے بلند کرے گا۔ ے اللہ نے طالوت کو تمہارے لئے بادشاہ مقرر کیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہم پر اس کی بادشاہی کیونکر ہو سکے گی بلکہ ہم اس کی نسبت بادشاہی کے زیادہ حقدار ہیں ۔ اور اس کے پاس مال کی طرف سے کوئی وسعت نہیں۔ اس نے کہا اللہ نے اسے تم پر چن لیا اور اسے علم و جسم دونوں میں کشائش دی ہے۔