حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 177 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 177

حقائق الفرقان 122 سُورَةُ الْبَقَرَة مصیبت جھیلنے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔تفسیر۔اب جو رکوع اس وقت پڑھتا ہوں اس میں نام لے کر ایک منعم علیہم کا ذکر ہے یعنی آدم اور ایک مغضوب علیہم یعنی شیطان کا اور بھول میں پڑنے والے گروہ ملائکہ کا۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۶ مورخه ۱۱ فروری ۱۹۰۹ء صفحه ۸) مخلوق دو قسم کی ہے۔ایک وہ جونور کے ساتھ تعلق رکھتی ہے ان میں ملائکہ ہیں ، نیک لوگ ہیں اور تمام مفید اور بابرکت اشیاء ہیں۔دوسری جو ظلمت سے تعلق رکھتی ہیں۔ان میں ابلیس ہے شریر لوگ ہیں اور تمام موذی جانور اور ضرر دینے والی اشیاء ہیں۔بعض شریر آدمیوں کو بھی قرآن شریف میں شیطان کہا گیا ہے۔مثلاً إِذَا خَلَوْا إِلى شَيْطينِهِمْ (البقرة :۱۵) جبکہ اپنے سرداروں، شیطانوں کی طرف علیحدہ ہوتے ہیں۔خدا کے نیک بندوں کو فرشتہ کہا جاتا ہے۔حضرت یوسف کے متعلق مصر کی عورتیں بول اُٹھیں۔مَا هُذَا بَشَرًا إِنْ هَذَا إِلَّا مَلَكَ كَرِيمُ (یوسف : ۳۲)۔یہ انسان نہیں یہ تو صرف فرشتہ ہی ہے۔( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ مولوی شیر علی صاحب بی اے کے متعلق فرمایا تھا کہ شیر علی تو فرشتہ ہیں۔ایڈیٹر ) بعض جگہ میں نے ملک کا ترجمہ نیک بندے یا شیطان کا ترجمہ شریر لوگ کیا ہے۔اس سے کسی کو یہ دھو کہ نہ لگے کہ میں فرشتے یا شیطان کے وجود کا قائل نہیں ہوں۔میں ان کے علیحدہ وجود کو مانتا ہوں لیکن ان کے مظاہر بندوں میں اور دیگر اشیاء میں بھی ہوتے ہیں۔شجرة۔جھگڑے کو بھی کہتے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ کسی جھگڑے کی بات میں نہ پڑو نسل بڑھانے کو بھی شجرہ کہتے ہیں۔اسی واسطے شجرہ نسب ہوتا ہے۔اور شجرہ کے معنے ہیں درخت۔البدر - کلام امیر حصہ دوم ۱۰ /اکتوبر ۱۹۱۲ صفحه ۳۹) للہ جو حکم دیتا ہے اس کے ساتھ کچھ نواہی بھی ہوتے ہیں یہاں اُسْكُن كُلّا مِنْهَا رَغَدًا تو احکام ہیں اور لا تقربا نہی ہے۔هذه الشجرة۔ایک درخت سے منع کیا جو ان کے لئے مضر تھا۔بے جا تکلیف اُٹھائی ان