حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 161
حقائق الفرقان ١۶١ سُورَةُ الْبَقَرَة جو انسان کے تابع ہیں۔ قرآن کریم نے اس مضمون کو خوب صاف کیا ہے جہاں فرمایا ہے۔ ا وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَسِقِينَ (البقرۃ: ۲۷) یعنی اس سے وہ انہیں لوگوں پر ضلال اور گمراہی کا حکم لگاتا ہے جو اس کے حدود اور احکام کو توڑتے ہیں۔ ٢- يُضِلُّ اللهُ الظَّلِمِينَ (ابراهیم: (۲۸) اللہ ظالموں پر گمراہی کا حکم لگاتا اور انہیں گمراہ ٹھہراتا ہے۔ يُضِلُّ اللهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُرْتَابُ (المومن : ۳۵) اللہ گمراہ ٹھہراتا ہے ایسے شخص کو جو حد سے نکلنے والا متردد ہوتا ہے۔ ان آیات سے یہ بات کس قدر صاف ہو جاتی ہے اور خدا ترس دانش مند کے نزد یک حرف رکھنے کی جگہ نہیں رہتی ۔ جو لوگ بدکار اور ظالم اور مسرف اور کذاب ہوتے ہیں وہ اپنے اعمال سے کیا ہر ایک سلیم الفطرت کے نزدیک اس بات کے مستحق نہیں ہوتے کہ وہ انہیں دیکھتے ہی حکم لگا دے کہ یہ تو ہلاک اور تباہ ہونے والے لوگ ہیں ۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام ۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن ۔ صفحہ ۹۹) ٣٠ هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ فَسَولَهُنَّ سَبْعَ سَمُوتٍ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ - ترجمہ ۔ وہی اللہ ہے جس نے زمین کی سب کی سب چیزیں تمہارے ہی واسطے پیدا کیں پھر متوجہ ہوا آسمان کی طرف تو ٹھیک بنا ڈالے انہیں سات آسمان اور وہ ہر ایک چیز کا بڑا جاننے والا ہے۔ تفسیر ۔ اس نے تمہاری بھلائی کے لئے زمین کی سب چیزوں کو پیدا کیا۔ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور انہیں درست کیا سات آسمان اگر کسی طرح نہیں مانتے تو یوں تو مانو کہ وہ ہر چیز کا عالم ہے اور علم والوں کی بات ماننا فطرت انسانی میں داخل ہے ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۶ مورخه ۱۱ فروری ۱۹۰۹ ء صفحه ۷ ) خَلَقَ لَكُمْ ۔ اندازہ کیا تمہارے لئے کیونکہ قیامت تک خلق ہوگی ۔۔۔۔۔۔ سبع سموت آسمان کے ستارے سات قسم کے ہیں۔ تشحید الا ذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحہ ۴۳۶)