حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 160 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 160

حقائق الفرقان 17۔سُورَةُ الْبَقَرَة مچھر کے سامنے ہاتھی۔تاہم کسی بات کے سمجھانے کے لئے مچھری بلکہ اس سے بھی ادنیٰ مثال دینے سے اللہ نہیں رکھتا۔جو ایمان دار ہیں وہ تو کہتے ہیں کہ یہ ان کے رب سے برحق ہے اور جو منکر ہیں وہ کہتے ہیں اس مثال سے اللہ نے کیا ارادہ کیا۔بہت سے اس سے گمراہ ہوتے اور بہت ہدایت پاتے ہیں۔گمراہ کون ہوتے ہیں وہی جو بد عہد ہیں اپنے عہد کا پاس نہیں رکھتے جن سے اللہ نے قطع تعلق کرنے کے لئے فرمایا ان سے تعلق جوڑتے ہیں اور جن سے تعلق جوڑنے کے لئے کہا ان سے قطع تعلق کرتے ہیں اور زمین میں فساد کرتے ہیں مگر شرارت کا پھل سواٹو ٹا پانے کے کچھ نہیں۔دیکھو تم کچھ نہ تھے خدا نے زندہ کیا پھر مارے گا اور جزا اور سزا کے لئے زندگی دے گا۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۶ مورخہ ۱۱ فروری ۱۹۰۹ صفحہ ۷ ) دُنیا کی نعمتوں کی مثال تو ان کے مقابل میں مچھر کی سی ہے یعنی دنیا کی چیزوں کی بہشت کی نعمتوں کے سامنے ایک پقہ کے برابر بھی حقیقت نہیں۔ایسی مثالوں سے مومن حق کو پالیتا ہے اور کا فر کہتا ہے تمثیلوں سے کیا فائدہ ؟ بہت سے لوگ گمراہ ہو جاتے ہیں مگر گمراہ وہی ہوتے ہیں الفضل جلد نمبر ۱۱ مورخه ۲۷ اگست ۱۹۱۳ صفحه ۱۵) جو فاسق ہوں۔يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَ يَهْدِي بِهِ كَثِيرًا وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفُسِقِينَ (البقرة: ۲۷) کیسا صاف مطلب ہے کہ فاسق ہی اس کتاب کریم کو پڑھ کر گمراہ ہوتے ہیں ورنہ مومنوں کے لئے شفا اور راحت ( فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ دوم صفحہ ۳۲۲) اور نور ہے۔لا يستحي - نہیں رکتا۔بعُوضَةً - منافقوں کے متعلق جب آگ جلانے کی مثال دی گئی تو بڑ بڑانے لگے کہ آگ تو مچھر ہٹانے کے واسطے جلائی جاتی ہے کیا ہم مچھر ہیں جو ہمارے واسطے ایسی مثال پیش کی گئی ہے۔البدر۔کلام امیر حصہ دوم مورخه ۱۷ اکتوبر ۱۹۱۲ صفحه ۳۸) فَاسِقِين - بدعہد۔اضلال جس سے یضلل نکلا ہے نتیجہ ہے ضلال کا اور ضلال پیدا ہوتا ہے ان انسانی طاقتوں۔اے گمراہ کرتا ہے اس سے بہتیرے اور راہ پر لاتا ہے اس سے بہتیرے اور گمراہ کرتا ہے انہیں کو جو بے حکم ہیں۔۱۲