حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 158
حقائق الفرقان یہ پاتے ہیں۔۱۵۸ سُورَةُ الْبَقَرَة النَّهْرُ يَدُلُّ عَلَى إِقْلِيمِهِ كَسَيْحُوْنَ وَجَيْعُوْنَ وَالْفُرَاتِ وَالنَّيْلَ - نہر سے مراد یہ ہے کہ ایسی اقلیمیں جن میں نہریں بہتی ہیں جیسے سیون، جیحون اور فرات اور نیل اسلام کے قبضہ میں آجائیں گی اور آخر وہ آگئیں۔وَالنَّهْرُ فِي الْمَنَامِ عَمَلَ صَالِحٌ أَورِزْقٌ مُسْتَمِرُ وَ نَهْرُ اللَّبَنِ دَلِيْلٌ عَلَى الْفِطْرَةِ وَنَهْرُ الْخَمْرِ دَلِيْلٌ عَلَى السُّكَّرِ مِنْ حُبِ اللهِ تَعَالَى وَ الْبُغْضِ عَنْ مَحَارِمِهِ وَ نَهْرُ الْعَسْلِ دَلِيْلٌ عَلَى الْعِلْمِ (تعطیر الانام صفحه ۳۲۶) وَالْقُرْآنِ - اور خواب میں نہر کو دیکھنے سے مراد ہوتا ہے عمل صالح اور دائی رزق۔یہ بھی مسلمانوں کو ملا۔دودھ کی نہر دیکھنے سے مراد ہے فطرت صحیحہ اور شراب کی نہر سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی محبت کے نشہ سے سرشار ہونا اور اس کی حرام کردہ اشیاء سے بغض رکھنا اور شہد کی نہر سے مراد ہے علم اور قرآن کا حاصل ہونا۔غَيْرُ الْكَوْثَرِ فِي الْمَنَامِ نُصْرَةٌ عَلَى الْأَعْدَاء بِقَوْلِهِ تَعَالَى إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَر - (تعطیر الانام صفحه ۳۲۵) نہر کوثر کا رویا میں دیکھنا دلیل ہوتا ہے اعداء پر مظفر ومنصور ہونے پر جیسا کہ خدا تعالیٰ کے كلام إنا أعطينكَ الْكَوْثَرَ سے مستنبط ہوتا ہے۔چنا نچہ بے چارگی اور بے سامانی کے زمانہ میں جبکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ معظمہ میں دشمنوں کے ہاتھوں سے شکار لاغر کی طرح دکھ اٹھا رہے تھے۔یہ وحی آپ کو عالم الغیب قادر خدا کی طرف سے ہوئی کہ ہم نے تجھ کو الکوثر عطا فرمایا ہے۔دنیا جانتی ہے کہ وہ مظلوم بیکس انسان جسے اپنے بیگانوں نے پاؤں کے نیچے مسلنا چاہا تھا کس طرح اپنے اعداء پر منصور و مظفر ہوا اور اس کے قوی اور متکبر دشمن خاک میں مل گئے۔سوچو اور غور کرو! کہ یہ غیب کی باتیں کس طرح حرفاً حرفاً پوری ہوئیں اور خدا کے غضب سے ڈرو۔(نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن - صفحہ ۱۶۵ تا ۱۶۷) جنات۔جنت کیا ہے؟ آدمی کی آنکھ ہے، کان ہیں ، زبان ہے، مزہ ہے ،ٹولنا ہے۔۔