حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 157
حقائق الفرقان ۱۵۷ سُوْرَةُ الْبَقَرَة کرتا ہے۔صفحہ ۵۱۔وہ مضبوط پہاڑی ڈھل مستانہ خوشی کے لئے نہروں میں نچوڑا گیا ہے باز کی طرح وہ اپنی جگہ قرار پذیر ہوتا ہے۔صفحہ ۵۳ اے اندر! تیری نہر قوت کے ساتھ دیوتاؤں کی ضیافت کے لئے بہتی ہے۔اے سوم مدہ سے مالا مال ! ہمارے برتن میں نشست گاہ اختیار کر صفحہ ۶۴ دودھ ان کی طرف اس طرح دوڑا ہے جس طرح طغیانیاں کسی چٹان پر دھکیلتی آتی ہیں۔وہ اندر کے پاس صاف ہوکر آتے ہیں۔صفحہ ۹۷ نیز اگر نہروں والی بہشت نا پسند تھی تو تمہارے آریہ کو جو تبت میں آباد تھے جب اپنے ملکوں سے اپنے کرموں انسار سے ( نتائج اعمال ) جلاوطنی کا انعام ملا تھا تو چاہیے تھا کہ افریقہ کے ریگستان میں جاتے۔انہوں نے انڈیا کو کیوں پسند کیا جس میں دودھ اور شہد ہر قسم تعیش اور شم کی نہریں بہتی ہیں۔تم کیسے شریر ہو مکہ معظمہ کا تذکرہ ہو تو اُسے ریگستان سمجھتے ہو اور اگر نہروں کا تذکرہ ہو تو اس پر ہنسی ٹھٹھا کرتے ہو۔تم اس پر راضی ہو کہ تمہیں نرگ میں بھیج دیا جاوے۔حقیقی جواب نھر کے معنے کثرت کے ہیں اور پھر کے معنے ندی کے ہیں۔اور وہ آیات جن میں نہروں کے عطیہ کا تذکرہ ہے۔وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کرام کے حق میں ان کی محنتوں، مشقتوں اور تکالیف کے بدلہ جو انہوں نے اپنے پاک نبی کی اتباع میں اٹھا ئیں اللہ کی طرف سے وعدہ تھا کہ انہیں اسی جنم میں ریگستان عرب کے بدلہ نہروں والے ملک عطا کروں گا۔چنانچہ جیسے فرمایا تھا ویسا ہی ہوا اور آپ کے نیچے اور مخلص اتباع ان بلاد کے مالک ہو گئے جن میں دجله، فرات ، جیحون ،سیون، پر دن اور نیل بہتے تھے اور اسی پیروی کی برکت سے مسلمانوں نے آریہ ورت کو بھی لے لیا جس میں گنگا ، جمنا اور سرسوتی بہتے ہیں۔سوچو اور خوب غور کرو! کیسے قبل از وقت بتایا ہو اوعدہ پورا ہوا۔۔۔ان الفاظ کے حقائق کے سمجھنے کے لئے ہمیں کتب تعبیر الرویا کی طرف رجوع کرنا چاہیے چنانچہ نھر کے حقائق کی نسبت ان میں ہم