حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 155
حقائق الفرقان کیا کرو، فساد مچایا کرو۔۱۵۵ سُوْرَةُ الْبَقَرَة غرض نہ تو قرآن جیسی کتاب بنا کر لاتے ہو اور نہ اس سے بہتر بنا سکتے ہو تو پھر ڈرو اور بچاؤ اپنے آپ کو اس آگ سے جس کا ایندھن یہ شریر لوگ اور جس کے بھڑکنے کا موجب یہ معبودانِ باطل ہیں۔جولوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اعمال صالحہ کئے وہ باغوں میں ہوں گے جن کے نیچے ندیاں بہتی ہیں۔ایمان تو جنات کے رنگ میں متمثل ہو گا اور اعمال صالحہ اس کی نہریں ہیں جو پاک تعلیم کے نیچے۔آتا ہے وہ ترقی کرتا ہے اور پاک آرام میں آتا ہے۔ہر آن میں اسے یقین آتا ہے کہ کیا عظیم الشان اور کیا پاک اس کا کلام ہے جس نے فسانہ عجائب لکھی ہے ! الفضل جلد نمبر ۱۰ مورخه ۲۰ /اگست ۱۹۱۳ء صفحه ۱۵) اگر تم شک میں ہو اس سے جو ہم نے اپنے بندے پر اتارا تو اس کے مثل کوئی ایک ٹکڑر الاؤ اور اللہ کے سوا اپنے گواہوں کو بلاؤ اگر سچے ہو۔پھر اگر تم نے نہ کیا اور ہرگز نہ کر سکو گے تو ڈرواس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔فصل الخطاب لمقدمہ اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۲۵۴ حاشیه ) وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ (البقرة: (۲۵) کے معنے یہ ہیں کہ انسانوں اور پتھروں میں جو تعلق پیدا ہوا ہے کہ انسانوں نے پتھروں کی پرستش شروع کر دی ہے یہی تعلق دوزخ کے اشتعال کا باعث اور اس کا ہیزم ہے۔( نورالدین بجواب ترک اسلام۔کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۲۷۹) ۲۶ - وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ اَنَّ لَهُمْ جَنْتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الاَنْهُرُ كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوا هُذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَ b " أتُوا بِهِ مُتَشَابِهَا وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ وَهُمْ فِيهَا خَلِدُونَ - ترجمہ۔اچھی خبر سنادو ان لوگوں کو جنہوں نے اللہ کو مانا اور بھلے کام کئے یہ کہ ان کے لئے عمدہ عمدہ باغ ہیں۔پھر رہی ہیں نہریں اُن میں۔جب ان کو وہاں باغوں سے کھانے کو پھل پھلاری ملے گی لے جس کے سلگنے کا سبب آدمی اور پتھر ہیں۔( ناشر )