حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 136
حقائق الفرقان ۱۳۶ سُورَةُ الْبَقَرَة کون ہوتے ہیں؟ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا ظاہر کچھ اور باطن کچھ اور ہوتا ہے۔اسی لئے ص فرما يا أُولَبِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَلَةَ بِالْهُدَى فَمَا رَبِحَتْ تَجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ یعنی یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی کو مول لے لیا ہے پس ان کی تجارت ان کے لئے سودمند تو نہ ہوگی اور وہ کب بامراد ہو سکتے تھے۔ان لوگوں کی پہلی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ زبان سے تو ایمان باللہ اور یوم الآخر کی لاف و گزاف مارتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کا فیصلہ ان کے حق میں یہ ہے۔مَاهُم بِمُؤْمِنین اس سے ایک حقیقت کا پتہ لگتا ہے کہ انسان اپنے منہ سے اپنے لئے خواہ کوئی نام تجویز کر لے اس نام کی کوئی حقیقت پیدا نہیں ہوسکتی جب تک آسمان پر کوئی مبارک نام نہ ہو اور یہ امر اس وقت پیدا ہوتا ہے جبکہ انسان اپنے ایمان کے موافق اعمال بنانے کی کوشش کرے۔ایمان جب تک اعمال کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا کوئی سودمند نہیں ٹھہر سکتا اور اگر بڑا ایمان رکھ کر انسان اعمال اس کے موافق بنانے کی کوشش نہ کرے تو اس سے مرض نفاق پیدا ہوتا ہے جس کا اثر آخر یہاں تک ہو جاتا ہے کہ نہ قوتِ فیصلہ باقی رہتی ہے اور نہ تاب مقابلہ۔ان لوگوں کے دوسرے آثار اور علامات میں سے بیان کیا کہ وہ مفسد علی الأرض ہوتے ہیں اور جب ان کو کہا جاتا ہے کہ تم فساد نہ کرو تو وہ اپنے آپ کو مصلح بتاتے ہیں حالانکہ وہ بڑے بھاری مفسد ہوتے ہیں۔اس طرح پر الضال کی ایک تفسیر ختم کر دینے کے بعد پھر اس سورت میں فرمانبرداری کی راہوں کا ذکر کیا اور بتایا ہے کہ فرمانبرداری اختیار کرنا انسان کی اصل غرض اور مقصد ہے اور یہ بتایا ہے کہ حقیقی راحت اور سکھ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں ہے اور فرمانبرداری کے راہوں کے بیان کرنے میں قرآن کریم کا ذکر فرمایا جس سے یہ مراد اور منشا ہے کہ قرآن شریف کو اپنا دستور العمل بناؤ اور اس کی ہدایتوں پر عمل کرو۔پھر اس بات کی دلیل پیش کی ہے کہ قرآن شریف خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور ایک زبردست تحدی کی ہے کہ اگر کسی کو اس کے منزل میں اللہ ہونے میں شک ہو تو وہ اس کی نظیر لاوے۔پھر منعم علیہم قوم میں سے آدم علیہ السلام ابوالبشر کا ذکر کیا اور بتایا کہ راستبازوں کے ساتھ شریروں اور فساد کرنے والوں کی ہمیشہ سے جنگ ہوتی چلی آئی ہے اور آخر