حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 123 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 123

حقائق الفرقان ۱۲۳ سُوْرَةُ الْبَقَرَة کہا جائے کہ تم ایمان لاؤ جیسا کہ وہ لوگ ایمان لائے ہیں تو کہیں گے کیا ہم ان کی مانند ایمان لائیں رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد نمبر ۸۔فروری ۱۹۰۷ صفحه ۲۹۱ تا ۲۹۴) جو کہ نادان ہیں ) جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں نفاق سے فساد نہ پھیلاؤ تو کہتے ہیں ہم تو طرفین میں اصلاح کرنے والے ہیں۔سُنو ! بے شک یہی لوگ مفسد ہیں مگر وہ سمجھتے نہیں۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۶ مورخه ۱۱ فروری ۱۹۰۹ ء صفحه ۵) جب واعظ وعظ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ جو کام تم کرتے ہو اس کا نتیجہ خطرناک ہے۔تم دنیا میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تو بہ ! ہم فسادی ہیں؟ ہم تو با مسلمان اللہ اللہ بابر یمن رام رام کے اصل پر چل کر سب کے ساتھ اپنا تعلق رکھتے ہیں اور بڑی سنوار والے ہیں۔اللہ فرماتا ہے الا إِنَّهُم هُمُ الْمُفْسِدُونَ یہی بڑے مفسد لوگ ہیں کہ دعوے زبان سے کچھ ہیں ہاتھ سے کچھ کرتے ہیں۔ایک نماز ایسی چیز ہے کہ کلمہ شہادت کے بعد کوئی عمل نماز کے برابر نہیں۔حضرت نبی کریم نے فرمایا میرا جی چاہتا ہے کہ جب تکبیر ہو جائے تو میں دیکھوں کہ کون کون جماعت میں نہیں آیا اور ان کے گھر جلا دوں۔مگر باوجود اس کے کئی لوگ جو نماز با جماعت نہیں پڑھتے تم ان میں سے نہ بنو۔منافق اصل میں بڑا مفسد ہوتا ہے اس میں شعور نہیں ہوتا۔خدا تمہیں سمجھ دے جو میں نے کہا ہے اسے سمجھو۔الفضل جلد نمبر ۸ مورخه ۶ /اگست ۱۹۱۳ ء صفحه ۱۵) ۱۴ تا ۱۷۔وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ امِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْ مِنْ كَمَا أَمَنَ السُّفَهَاءُ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَكِنْ لَا يَعْلَمُونَ وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَ إِذَا خَلَوْا إِلى شَلِطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِعُونَ اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ - أُولَبِكَ لا الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَلَةَ بِالْهُدى فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ ترجمہ۔اور جب ان سے کہا گیا یا کہا جائے کہ دین اسلام کی باتیں مانو جیسے لوگوں نے مانیں۔جواب دیا کیا ہم مان لیں جیسے مان لی بیوقوفوں نے سن رکھو یہی ہیں کم عقل بے وقوف لیکن وہ جانتے نہیں۔