حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 122 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 122

حقائق الفرقان ۱۲۲ سُوْرَةُ الْبَقَرَة کے خلاف تھے۔اس واسطے فرمایا کہ ایسے مسائل تو دن بدن بڑھتے جائیں گے۔ابھی قرآن شریف نازل ہو رہا ہے ساتھ ہی ان کا مرض بھی بڑھتا جائے گا۔عَذَاب الیم - یہ لوگ ہمیشہ دکھ میں رہیں گے کیونکہ مسلمانوں کی فتوحات دن بدن ترقی کریں گی۔البدر - کلام امیر حصہ دوم مورخه ۱/۱۰ کتوبر ۱۹۱۲ صفحه ۳۲) ۱۳،۱۲ - وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَكِن لَّا يَشْعُرُونَ - ترجمہ۔اور جب اُن سے کہا گیا یا کہا جائے کہ ملک میں شرارت مت کرو جواب دیا ہم تو ملک کے خیر خواہ ہی ہیں۔سن رکھو یہ ہی ہیں شریر فسادی لیکن وہ شعور بھی نہیں رکھتے۔تفسیر۔اِذَا ظرف زمان ہے۔یہ عطف ہے مِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ الخ پر۔پس اوّل میں تو کمال ایمان کا ادعا ہے اور دوم میں کمال اصلاح کا ادعا ہے۔گویا وہ کہتے ہیں کہ ہم کامل ایمان اور کامل اصلاح والے ہیں اور اس زمین سے مراد مدینہ منورہ کی زمین ہے اور جن کو کہا جاتا ہے یا کہا جائے وہ تو منافق ہی ہیں۔ہاں کہنے والوں کا یقینی پتہ نہیں لگتا کہ وہ کون ہیں؟ آیا اہلِ اسلام ان کو یہ کہتے تھے کہ مدینہ کی سرزمین میں فساد نہ کر دیا کہ کفار ان کو یہ کہتے تھے۔میرا خیال ہے کہ کہنے والے کفار ہیں اور ان کے نزد یک منافق لوگ یہ فساد کرتے تھے کہ اہلِ ایمان کے پاس جاتے اور ان سے باتیں چیتیں کرتے ہیں تو ان کے اس ملاپ کو فساد قرار دے کر اس سے منع کرتے ہیں کہ تم ان سے کیوں ملتے ہو اور جب ان کی اس ممانعت سے وہ باز نہ آتے تو پھر وہ کہتے کہ اچھا پھر تم بھی ان معروف لوگوں کی مانند ایمان لے آؤ اور منافق ان کو جواب میں کہتے کہ کیا ہم بھی ان نادانوں کی طرح ایمان لائیں چنانچہ ان کا یہ سوال و جواب بھی اس کے بعد متصل بدیں الفاظ خداوند علیم نے بیان فرمایا ہے کہ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ أَمِنُوا كَمَا أَمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا أَمَنَ السُّفَهَاء ( اور جب ان کو