حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 121
حقائق الفرقان ۱۲۱ سُوْرَةُ الْبَقَرَة حق و باطل میں امتیاز کرنے والی قوت کی کمی کی بیماری تھی یا حسد کی بیماری تھی جس کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقبال اور رفعت شان کو دیکھ دیکھ کر حسد اور غم کی آگ سے جل جاتے تھے اور فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًادعا اور بشارت ہے۔پس اس صورت میں ترجمہ یہ ہو گا ( پس اللہ ان کی بیماری کو زیادہ کرے) پس وہ بزدل ہو گئے قلیل جماعت سے حالانکہ وہ روز افزوں ترقی کر رہی ہے اور تھوڑے سے مسائل کو امتیاز نہ کر سکے حالانکہ وہ زائد ہورہے ہیں۔(رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد نمبرے۔جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۲۷۶) بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ۔باء بمعنے سبب کے ہے اور مامصدر یہ ہے ( جو کہ اپنے ما بعد کے فعل کو بمعنے مصدر بنا دیتا ہے ) اور کان کا مصدر کون ہے اور یہ لغت عرب میں مستعمل ہے اور گان دوام و استمرار کا فائدہ دیتا ہے جیسا کہ خداوند کریم نے فرمایا ہے كَانَ اللهُ عَلِيمًا (اللہ ہمیشہ جاننے والا ہے)۔انسان کو جھوٹ سے بہت ہی بچنا چاہیے۔دیکھو کہ نفاق جیسے گندے گناہ اور مرض کا سبب بھی یہی جھوٹ ہے۔پھر نفاق بھی ایسا کہ جس کی نسبت فرمایا ہی فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ ( پس وہ رجوع نہ کریں گے ) اور جہاں پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نفاق کے علامات بیان فرمائے ہیں وہاں پر فرمایا ہے کہ منافق کے پاس جب امانت رکھو تو خیانت کرے گا اور جب جھگڑتا ہے تو گالی گلوچ دیتا ہے اور جب وعدہ کرتا ہے تو خلاف کرتا ہے اور جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور قرآن مجید میں جھوٹ بولنے والوں پر لعنت آئی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جب دریافت کیا گیا کہ مومن سے فلاں فلاں گناہ ہو سکتے ہیں فرمایا ہاں۔لیکن جب جھوٹ کی نسبت دریافت کیا گیا تو فرمایا۔نہیں۔الغرض کہ جھوٹ بہت برا مرض ہے مومن کو اس سے ہمیشہ بہت ہی بچنا چاہیے۔رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد نمبر ۸۔فروری ۱۹۰۷ صفحه ۲۸۸٬۲۸۷) زاد۔چونکہ ان پر یہ ابتلا نئے مسائل کی وجہ سے تھا جو کہ ان کے رسم و رواج یا عام خیالات