حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 120 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 120

حقائق الفرقان ۱۲۰ سُوْرَةُ الْبَقَرَة صرف زبانی دعولی کرنے والوں کے دلوں میں ، جنہیں نہ قوت فیصلہ نہ تاب مقابلہ، مرض ہے۔اللہ اس مرض کو بڑھائے گا اس طرح پر کہ جوں جوں اسلام کے مسئلے بڑھیں گے ان کے دل میں شبہات بڑھیں گے یا یہ عملی طور پر انکار کریں گے۔پھر یہ چھوٹی سی جماعت کے مقابل میں گیدی ہیں تو بڑوں کے سامنے کیا کچھ بزدلی نہ دکھا ئیں گے یا تھوڑے مسائل کا فیصلہ نہیں کر سکتے تو بہت سے مسائل کا فیصلہ کیا کریں گے۔چونکہ انہوں نے جھوٹا دعوی ایمان کا کیا اس لئے ان کو دُکھ دینے والا عذاب ہے۔الفضل جلد نمبر ۸ مورخه ۶ /اگست ۱۹۱۳ء صفحه ۱۵) جب ہمارے نبی کریم اور رسول رؤف رحیم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ معظمہ سے مدینہ طیبہ میں رونق افروز ہوئے تو چند دشٹ۔منافق ، دل کے کمزور ، جن میں نہ قوت فیصلہ تھی اور نہ تاب مقابلہ، آپ کے حضور حاضر ہوئے اور بظاہر مسلمان ہو گئے اور آخر بڑے بڑے فسادوں کی جڑ بن گئے۔وہ مسلمانوں میں آ کر مسلمان بن جاتے اور مخالفانِ اسلام کے پاس پہنچتے تو مسلمانوں کی بدیاں کرتے۔۔۔اس شریر گروہ کے متعلق یہ آیت ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ سر دست جماعت اسلام تعداد میں بہت ہی قلیل اور تھوڑی سی ہے اور مسائل اسلام بھی جو پیش ہوئے ہیں بہت کم ہیں۔یہ بد بخت منافق اگر اس قلیل جماعت کے سامنے تاب مقابلہ نہیں لا سکتے اور اپنے دل کی مرض سے بزدل ہو کر مسلمانوں کی ہاں میں بظاہر ہاں ملاتے ہیں تو یا درکھیں ان کا یہ کمزوری کا مرض اور بڑھے گا کیونکہ یہ جماعت اسلام روز افزوں ترقی کرے گی اور یہ موذی بدمعاش اور بھی کمزور ہوں گے۔اور ہوں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہو ا۔نیز اسلام کے مسائل روز بروز ترقی کریں گے۔جب یہ لوگ تھوڑے سے مسائل کا فیصلہ نہیں کر سکتے تو ان مسائل کثیرہ کا کیا فیصلہ کر سکیں گے جو یوماً فيوماً روز افزوں ہیں۔بہر حال ان کا مرض اللہ تعالیٰ بڑھائے گا اور اسلام کو ان کے مقابلہ میں ترقی دے گا۔( نورالدین بجواب ترک اسلام۔کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۸۸) حضرت عبد اللہ بن عباس اور عبد اللہ بن مسعودؓ سے اور اور بہت سے صحابہ سے یہی مروی ہے کہ مرض سے مراد شک ہے یعنی ان کے دلوں میں شک کا مرض تھا یا بزدلی اور صادق و کا ذب اور