حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 112
حقائق الفرقان ۱۱۲ سُوْرَةُ الْبَقَرَة نیکی کا بدلہ نیک اور بدی کا بدلہ بددیتا اور اپنے دوستوں کو عزت دیتا اور ان کے لئے خوارق عادت کام کرتا اور اپنے دوستوں کے دشمنوں کو ذلیل کرتا، ایسے خدا کو جو ماننے والا ہوا سے نفاق کی کیا ضرورت ہے اور کس کا ڈر ہے کہ وہ حق کو چھپاوے اور درپردہ خدا کے دشمنوں سے بھی تعلقات رکھے۔يَوْمِ الْآخِر پر ایمان کے یہ معنے ہیں کہ انسان جزا و سزا کا قائل ہو۔اس کے دل میں یہ بات جمی ہوئی ہو کہ نیکی کا بدلہ بدی اور بدی کا بدلہ نیکی نہیں ہو سکتا۔پھر جس کو یہ ایمان حاصل ہو اور ادھر وہ خدا کو ایک متصرف مقتدر ہستی مانتا ہو تو بتلاؤ نفاق کہاں رہے گا۔اس لئے خدا تعالیٰ آگے فرماتا ہے کہ یہ لوگ اس دعوی میں جھوٹے ہیں۔صرف ظاہری باتوں اور فعلوں سے دکھلانا چاہتے ہیں کہ ہم بھی مومن ہیں۔وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِين۔وہ مومن ہر گز نہیں ہیں۔جب ما کا صلہ با آوے تو اس سے تاکید مُراد ہوتی ہے واؤ یہاں حالیہ ہے۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخه ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۰۲) بہت لوگ ایسے ہیں جو کہہ تو دیتے ہیں کہ ہم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے مگر وہ ذرا بھی مومن نہیں ہوتے۔ایمان کے سبق کا شروع اللہ پر ایمان لانے سے ہے اور اس سبق کا اختتام آخرت کے ماننے پر ہے اس لئے اس کے اندرونی حصوں کا ذکر نہیں آیا وہ سب ان دونوں کو ماننے میں آ گیا۔اللہ پر ایمان جبھی مکمل ومسلّم ہو سکتا ہے جب اس کے ملائکہ ، کتب و رسولوں پر ایمان لا یا جاوے۔ماننے کے معنے صرف زبان سے کہنا نہیں بلکہ تصدیق قلب اور عملوں کے ذریعہ اپنے ایمان کا ثبوت ضروری ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۵ مورخه ۴ رفروری ۱۹۰۹ ء صفحه ۴) قرآن میں بہت جگہ پر اس قسم کا ذکر پایا جاتا ہے کہ اکثر لوگ اس قسم کے بھی ہؤا کرتے ہیں کہ زبان سے تو وہ بڑے بڑے دعوے کیا کرتے ہیں مگر عملی طور پر کوئی کارروائی نہیں دکھاتے۔زبان سے وہ ایسی ایسی باتیں بھی کہہ لیتے ہیں جن کو ان کے دل نہیں مانتے۔چنانچہ قرآن کریم کے شروع میں ہی لکھا ہے وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَ