حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 112 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 112

حقائق الفرقان ۱۱۲ سُورَةُ الْبَقَرَة نیکی کا بدلہ نیک اور بدی کا بدلہ بد دیتا اور اپنے دوستوں کو عزت دیتا اور ان کے لئے خوارق عادت کام کرتا اور اپنے دوستوں کے دشمنوں کو ذلیل کرتا، ایسے خدا کو جو ماننے والا ہوا سے نفاق کی کیا ضرورت ہے اور کسی کا ڈر ہے کہ وہ حق کو چھپاوے اور در پردہ خدا کے دشمنوں سے بھی تعلقات رکھے۔ يَوْمِ الْآخِرِ پر ایمان کے یہ معنے ہیں کہ انسان جزاوسزا کا قائل ہو۔ اس کے دل میں یہ بات جمی ہوئی ہو کہ نیکی کا بدلہ بدی اور بدی کا بدلہ نیکی نہیں ہو سکتا ۔ پھر جس کو یہ ایمان حاصل ہوا اور ادھر وہ خدا کو ایک متصرف مقتدر ہستی مانتا ہو تو بتلاؤ نفاق کہاں رہے گا۔ اس لئے خدا تعالیٰ آگے فرماتا ہے کہ یہ لوگ اس دعوی میں جھوٹے ہیں۔ صرف ظاہری باتوں اور فعلوں سے دکھلانا چاہتے ہیں کہ ہم بھی مومن ہیں ۔ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ ۔ وہ مومن ہر گز نہیں ہیں ۔ جب ما کا صلہ با آوے تو اس سے تاکید مراد ہوتی ہے واؤ یہاں حالیہ ہے۔ البدر جلد ۲ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۰۲) بہت لوگ ایسے ہیں جو کہہ تو دیتے ہیں کہ ہم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے مگر وہ ذرا بھی مومن نہیں ہوتے ۔ ایمان کے سبق کا شروع اللہ پر ایمان لانے سے ہے اور اس سبق کا اختتام آخرت کے ماننے پر ہے اس لئے اس کے اندرونی حصوں کا ذکر نہیں آیا وہ سب ان دونوں کو ماننے میں آ گیا۔ اللہ پر ایمان جبھی مکمل و مسلم ہو سکتا ہے جب اس کے ملائکہ ، کتب و رسولوں پر ایمان لایا جاوے۔ ماننے کے معنے صرف زبان سے کہنا نہیں بلکہ تصدیق قلب اور عملوں کے ذریعہ اپنے ایمان کا ثبوت ضروری ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۵ مورخه ۴ رفروری ۱۹۰۹ ء صفحه (۴) قرآن میں بہت جگہ پر اس قسم کا ذکر پایا جاتا ہے کہ اکثر لوگ اس قسم کے بھی ہوا کرتے ہیں کہ زبان سے تو وہ بڑے بڑے دعوے کیا کرتے ہیں مگر عملی طور پر کوئی کارروائی نہیں دکھاتے ۔ زبان سے وہ ایسی ایسی باتیں بھی کہہ لیتے ہیں جن کو ان کے دل نہیں مانتے ۔ چنانچہ قرآن کریم کے شروع میں ہی لکھا ہے وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَ