حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 110 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 110

حقائق الفرقان 11 • سُوْرَةُ الْبَقَرَة لو۔خدائے تعالیٰ نے اپنے قانون میں یہ بات رکھ دی ہے کہ جن قوی سے کام نہ لیا جاوے وہ قوی بتدریج اور آہستہ آہستہ کمزور ہوتے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ قوای جن سے کام نہیں لیا گیا اسی طرح سے بیکار اور معطل رہتے رہتے بالکل سکتے ہو جاتے ہیں اور ان پر صادق آتا ہے کہ اب ان قوی پر اور ان قوی کے رکھنے والوں پر مہر لگ گئی ہے۔ہر ایک گناہ کا مرتکب دیکھ لے جب وہ پہلے پہل کسی بُرائی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس وقت اس کے ملکی قوای کیسے مضطرب ہوتے ہیں۔پھر جیسے وہ ہر روز برائی کرتا جاتا ہے ویسے آہستہ آہستہ وہ اضطراب اور حیا اور تامل جو پہلے دن اس بد کا رکو لاحق ہو اتھا وہ اُڑ جاتا ہے۔۔انسانی نیچر اور فطرت اور اس کے محاورے کی بولی پر غور کرو۔شریر اور بدذات آدمی کو ایک ناصح فصیح نہیں کہتا کہ ان کی عقل پر پتھر پڑ گئے، ان کے کان بہرے ہو گئے ، ان کی سمجھ پر تالے لگ گئے۔کیا ان مجازوں سے حقیقت مراد ہوتی ہے؟ فصل الخطاب لمقدمه اہل الکتاب حصہ دوم صفحہ ۳۱۸) - وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ - ترجمہ۔اور آدمیوں میں سے بعض آدمی ایسا بھی ہوتا ہے جو بتاتا ہے کہ ہم نے اللہ اور قیامت کے دین کو مانا حالانکہ وہ ماننے والوں میں نہیں۔تفسیر۔ان تمام لوگوں میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو بتاتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور یوم الآخر پر ایمان لائے اور وہ دراصل ایمان دار نہیں ہیں۔اس سے پیشتر کے رکوع میں مُنْعَمُ عَلَيْهِم اور مَغْضُوبِ عَلَيْہ گروہ کا ذکر ہوا ہے اور اب ضالین کا ذکر ہے یعنی ان لوگوں کا جو کہ گمراہی میں ہیں۔منافق کو بھی چونکہ ڈھل مل یقین ہوتا ہے کبھی ادھر اور کبھی اُدھر۔صراط مستقیم پر اس کا قدم نہیں ہوتا اس لئے وہ بھی ضال یعنی گمراہ ہوتا ہے۔قرآن کریم میں یہ ذکر اس لئے ہیں کہ ہر ایک مومن اپنے نفس کو ٹولے اور جو مذموم صفت اسے نظر آوے اسے دور کرے اور نفس کے اس دھوکے میں نہ آوے کہ اس سے مراد وہ منافق ہیں جو کہ کسی نبی یا مامور پر ایمان کے بارے میں نفاق رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو حقیقی مومن