حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 2
حقائق الفرقان لے سوم۔تدبر ، تفکر۔قرآن مجید میں ارشاد ہے اَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبِ أَقْفَالُهَا (محمد : ۲۵) اور فرمایا۔لايَتِ لِأُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا و عَلَى جُنُوبِهِمْ (ال عمران : ۱۹۱، ۱۹۲)۔چہارم حسن اعتقاد و حسن اقوال و حسن اعمال اور فقر، بیماری ،مقدمات و مشکلات میں صبر و استقلال۔اس مجموعہ کو قرآن نے تقوی کہا ہے۔دیکھو رکوع لَيْسَ البر (البقرۃ:۱۷۸) اور اس کا ایک درجہ سورہ بقرہ کے ابتدا میں ہے جیسے فرمایا ہے کہ الغیب پر ایمان لاوے۔پرارتھنا اور دعا اور بقدر ہمت و طاقت دوسرے کی ہمدردی کے لئے کوشش کرنے والا متقی ہے اور تقوی کے بارے میں ارشاد الہی ہے۔وَاتَّقُوا اللهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (البقرة: ۲۸۳) ہے لیکن خود پسند آدمی آیات الہی کے سمجھنے میں قاصر ہے جیسے فرمایا سَأَصْرِفُ عَنْ ايْتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ (الاعراف: ۱۴۷)۔b قرآن کریم کے معانی خود قرآن مجید اور فرقان حمید میں دیکھے جاویں۔شم۔اسمائے الہیہ اور الہی تقدیس و تنزیہ کے خلاف کسی لفظ کے معنے نہ لئے جاویں۔ہفتم۔تعامل سے جس کا نام سنت ہے معانی لے اور اس سے باہر نہ نکلے۔ہشتم سننِ الہیہ ثابتہ کی خلاف ورزی نہ کرے۔نہم۔لغت عرب و محاورات ثابتہ عن العرب کے خلاف نہ ہو۔دہم۔عرف عام سے جس کو معروف کہتے ہیں۔معانی باہر نہ نکلیں۔یاز دہم۔نور قلب کے خلاف نہ ہو۔ا تو کیا لوگ غور نہیں کرتے قرآن میں یا ان کے دلوں پر قفل پڑے ہوئے ہیں۔۲ عقلمندوں کے لئے (اللہ کی قدرت کی بہتیری) نشانیاں موجود ہیں۔جو کھڑے اور بیٹھے اور پڑے پڑے کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں۔س نیکی یہی نہیں۔ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور اللہ ہی کو سپر بناؤ اور اللہ تم کو سکھاتا ہے۔۵ے قریب ہی ہم پھیر دیں گے اپنی آیتوں کے سمجھنے سے اُن کو جو اپنے کو بڑا سمجھتے اور تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق۔( ناشر )