حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 106 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 106

حقائق الفرقان 1۔7 سُوْرَةُ الْبَقَرَة خرابی اور گند کروانا ٹھیک نہیں ہے۔اس کم بخت نے اپنے منہ سے اس کام کو خرابی اور گند کہا حالانکہ اول کہہ چکا تھا کہ ہم زنا کو بدکاری نہیں خیال کرتے۔میں نے اُسے ملزم کیا اور کہا کہ دوسرے تماش بین جو تمہاری لڑکیوں کے پاس آتے ہیں کیا وہ ان لڑکیوں کو اپنی لڑکیاں خیال کرتے ہیں؟ وہ بھی غیروں کی سمجھ کر آتے ہیں۔اس بات کو سن کر پھر اُسے کلام کی جرات نہ ہوئی۔البدر جلد ۲ نمبر ۶ مورخه ۲۷ فروری ۱۹۰۳ء صفحه ۴۶) اسی طرح ایک دفعہ ڈاکو اور چوروں سے میں نے پوچھا کہ تم ڈا کہ اور چوری کو گناہ خیال کرتے ہو؟ انہوں نے کہا ہر گز نہیں۔مجھے چونکہ ان کے انتظامات کا علم تھا کہ ڈاکو کس طرح اکٹھے ہوتے ہیں اور چور کس طرح نقب زنی کرتے ہیں۔کہاں کہاں پہرہ ان کا ہوتا ہے پھر ایک اندر جاتا ہے ایک سامان کو پکڑنے والا ہوتا ہے۔ایک ڈاک چوروں کی بندھی ہوئی ہوتی ہے کہ مال کو جھٹ دوسری جگہ پہنچا دیں۔پھر جس زرگر سے ان کی سازش ہوتی ہے وہ سونا چاندی گلانے کا سامان تیار رکھتا ہے کہ دیر نہ ہو۔میں نے ان سے پوچھا کہ جب تم آپس میں مال ایک دوسرے کے حوالے کرتے ہو تو اگر اس میں سے دوسرا کچھ نکال لیوے یا اگر کہیں دباتے ہو تو دوسرا چوری سے کھود کر لے لے اور تم کو اطلاع نہ دے یا ز ر گر اپنے مقررہ حصہ سے کچھ زیادہ رکھ لے تو پھر کیا کرتے ہو؟ اس پر طلیش میں آ کر انہوں نے جواب دیا کہ ہم ایسے خائن بے ایمان کی گردن مار ڈالیں۔میں نے کہا کہ خیانت اور چوری تو تمہارے نزدیک گناہ نہیں پھر اس کو سزا کیوں دیتے ہو؟ کہنے لگے کہ نہیں جی ایسے بے ایمان کو ہم کبھی شامل ہی نہیں کیا کرتے۔پھر میں نے ان کو کہا کہ جب تمہارا مال کوئی بے ایمانی سے لے تو تم اسے گناہ کہتے ہو بتلاؤ تم جو دوسروں کا مال لیتے ہو اور خدا معلوم کن کن مشکلوں سے انہوں نے کیسے کما یا ہو ا ہوتا ہے یہ کونسی ایمانداری ہے؟ غرضیکہ ان نظائر سے پتہ لگتا ہے کہ ہر بد کارا اپنی بدی کے ارتکاب میں ضرور ملزم ہے۔ہاں! اب یہ سوال ہوسکتا ہے کہ انسان ان بدکاریوں کا کیوں ایسا مرتکب ہوتا ہے کہ پھر چھوڑ نہیں سکتا یا اگر چھوڑ نا چاہے تو اس کا کیا علاج ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو جو قومی عطا کئے