حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 105 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 105

حقائق الفرقان ۱۰۵ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے عطا کردہ نور سے ہر ایک شئے کو دیکھتا ہے۔یادر ہے کہ جس انسان کو اللہ تعالیٰ نے ایسے اعضاء دیئے ہیں کہ وہ ان کو دبا سکتا ہی نہیں ہے ان کا نام مجنون رکھا ہے جن پر شریعت کا کوئی حکم جاری نہیں ہے۔ہاں اگر اس کے اندر کچھ نہ کچھ قوت ان اعضاء کے تقاضا کو دبانے کی ہے تو وہ ضرور قابل مؤاخذہ ہیں کیونکہ جب وہ بعض حالتوں میں ان قوی کو دبا سکتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ حکم خداوندی سے نہیں دبا سکتے یا کم از کم اپنے اس فعل پر نادم ہو کر ان کے دبانے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مدد نہیں مانگ سکتے ؟ ہم نے خود مجنونوں کو دیکھا ہے کہ ان میں کچھ نہ کچھ قوت ضرور باقی رہتی ہے۔روٹی وہ ضرور کھاتے ہیں بعض کو پیسہ مانگتے بھی دیکھا ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ کچھ نہ کچھ قوت ضرور باقی ہوتی ہے۔اسی طرح ہم ایک چور اور ڈاکو کو دیکھتے ہیں کہ اگر یہ افعال بدان سے بہ تقاضائے فطرتی صادر ہوتے ہیں تو پھر وہ حفاظت کا کیوں انتظام کرتے ہیں اور جب ان کو خطرہ ہو کہ ہم پکڑے جاویں گے تو کیوں بھاگتے ہیں؟ پس معلوم ہوا کہ ان میں اپنے آپ کو سنبھالنے اور اپنے قومی کو دبانے کی قوت بھی ہے اور اسی کا نام تو بہ ہے کہ جب انسان ایک طاقت کو بار بار دیا تا ہے تو وہ آخر کار زائل ہو جاتی ہے اور یہی شریعت کا حکم ہے۔ہاں! اگر اس میں دبانے کی طاقت نہیں ہے تو وہ مجنون اور پاگل ہے اس پر کوئی حکم شریعت کا نہیں ہے۔جو شخص بدی کو بدی جان کر کرتا ہے وہ ضرور قابل مؤاخذہ ہے۔بعض قو میں ایسی بھی ہیں کہ وہ کہتی ہیں کہ جن کو تم بدی کہتے ہو ہم اُن کو بدی نہیں تصور کرتے۔مگر وہ اپنے اقوال میں جھوٹے ہیں اور شرارت سے یہ بات کہتے ہیں۔ایک دفعہ ایک کنجر سے مجھے گفتگو کرنے کا اتفاق ہوا اُس نے کہا کہ ہم زنا کو ہرگز بدکاری نہیں سمجھتے۔میں نے اُس سے پوچھا کہ اگر یہ تمہارے نزدیک بدکاری نہیں ہے تو پھر بہوؤں سے یہ کام کیوں نہیں کرواتے ؟ تب اُس نے کہا کہ وہ غیر کی لڑکی ہوتی ہے اُس سے یہ ید کنجر لوگ جب اپنا بیاہ کرتے ہیں تو اس بیا ہتا عورت کو بہو کہتے ہیں اور اس سے حرام کاری کروانا سخت گناہ خیال کرتے ہیں۔