حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 99
حقائق الفرقان ۹۹ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ہوتا ہے اور حفاظت اور آخر تک پہنچنے کو۔اور قلوب قلب کی جمع ہے اور قلب کہتے ہیں دل کو۔اور دل کو قلب اس لئے کہتے ہیں کہ وہ خون کو قلب کرتا ہے کیونکہ وہ ایک جانب سے لیتا ہے اور دوسری طرف سے بدن کی طرف بھیجتا ہے یا اس کے تقلب کے لئے کیونکہ وہ قرار نہیں پکڑتا۔اور اسی وجہ سے آنحضرت نے فرمایا ہے الْقَلْبُ بَيْنَ أُصْبُعَى الرَّحْمٰنِ يُقَلِّبُهَا كَيْفَ شَاءَ ( دل رحمن کی دو اُنگلیوں کے درمیان ہے اُلٹاتا ہے اس کو جیسا کہ چاہتا ہے ) رسال تعلیم الاسلام قادیان جلد نمبر ۷۔جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۲۴۵) خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَبْعِهِمْ ۖ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ (البقرة: ۸) هُمْ کا لفظ یہاں تین بار آیا ہے اور یہ ضمیر جمع مذکر غائب کی ہے جس کے معنے ہیں وہ لوگ پس معلوم ہوا 66 کہ یہ ذکر ایسے لوگوں کا ہے جن کا پہلے کوئی ذکر آچکا ہے اس لئے ھم“ کے معنے سمجھنے کے لئے ضرور ہوا کہ ماقبل کو ہم دیکھ لیں۔تو جب ہم نے ماقبل کو دیکھا تو یہ آیت موجود ہے إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ وَأَنْذَرْتَهُمْ اَم لَمْ تُنْذِرُهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ (البقرۃ: ۷) اس بیان سے اتنا تو معلوم ہوا کہ وہ ایسے منکر لوگ ہیں جن کے لئے ختم اللہ کا ارشاد ہے۔عام نہیں۔پھر قرآن کریم نے صاف صاف بیان فرمایا ہے جہاں ارشاد کیا ہے۔بل طَبَعَ اللهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ (النساء : ۱۵۶) یعنی ان کے کفر کے سبب ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔اس سے معلوم ہوا کہ مہر کا باعث کفر ہے۔انسان کفر کو چھوڑے تو مہر ٹوٹ جاتی ہے۔اسی طرح فرمایا۔كَذلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَتِرٍ جَبَّارِ (المؤمن : ٣٦) پس تفصیل دونوں آیتوں کی یہ ہے۔إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا (البقرة: ( تحقیق جن لوگوں نے کفر کیا ) یا درکھو کہ کفر کرنا کا فرانسان کا اپنا فعل ہے جیسے قرآن کریم نے بتایا اور یہ پہلی بات ہے جو کافر سے سرزد ہوئی ہے اور یہ کفر خدا دا دروحانی قوتوں، طاقتوں سے کام نہ لینے سے شروع ہوا جو دل کی خرابی کا نشان ہے۔