حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 98 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 98

حقائق الفرقان ۹۸ سُوْرَةُ الْبَقَرَة کفار تین قسم کے ہوتے ہیں۔(۱) وہ جو بات کو سنتے ہی نہیں اور انکار کرتے چلے جاتے ہیں۔(۲) وہ جو بات کو سن تو لیتے ہیں مگر کچھ تو جہ نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہاں ایسی باتیں سناہی کرتے ہیں۔اور یہ دلیلیں سنی ہوئی ہیں۔کچھ قابل توجہ نہیں۔(۳) تیسرے وہ جو توجہ کرتے ہیں مگر اچھی چیز کو سمجھ کر بھی قبول نہیں کرتے۔جو کفار ایسے ہیں کہ ان کی سخت دلی اُس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ان کو نصیحت کوئی فائدہ نہیں دیتی۔عذاب الہی سے ڈرانا بھی کچھ کارگر نہیں ہوتا۔انہوں نے جن قوتوں سے کام لینے سے انکار کیا ہے وہ قو تیں ان کی چھین لی جاتی ہیں۔ان کی مثال ایسی ہے جیسے کہ ایک تحصیلدار اپنے عہدے سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔سرکار کا کام پورانہیں کرتا تو بالآ خر ا سے عہدہ تحصیلداری سے علیحدہ کیا جاتا ہے۔ایسا ہی جو لوگ خدا کی باتوں کو کسی حالت میں نہیں ماننے میں آتے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر ہو جاتی ہے۔پھر کسی بات کا اثر ان پر نہیں ہوسکتا۔جیسا کہ بعض ہند و فقیر اپنا ہاتھ اونچا کرتے ہیں اور اسی طرح رہنے دیتے ہیں اور نیچے نہیں کرتے تو کچھ عرصہ کے بعد پھر وہ ہاتھ وہیں خشک ہو جاتا ہے اور اس میں نیچے آنے کی طاقت رہتی ہی نہیں پھر اگر وہ چاہیں بھی کہ اُسے نیچے کریں تو بھی نہیں کر سکتے۔البدر - کلام امیر حصہ دوم مورخه ۱۰ / اکتوبر ۱۹۱۲ ، صفحه ۳۲) b - خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَبْعِهِمْ ۖ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ - ترجمہ۔مہر کر دی اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ آیا ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔تفسیر۔ختم کہتے ہیں چھاپے کے ساتھ چھا پہ لگانے کو اور اس اثر کو جو کہ چھا پہ لگانے سے حاصل