حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 92
جب جھگڑتا ہے تو گالی گلوچ دیتا ہے اور جب وعدہ کرتا ہے تو خلاف کرتا ہے اور جب بات کرتا ہے تو جُھوٹ بولتا ہے اور قُرآن مجید میںجُھوٹ بولنے والوں پر لعنت آئی ہے اور آنحضرت صلّی اﷲ علیہ وسلّم سے جب دریافت کیا گیا تو فرمایا۔نہیں۔الغرض کہ جُھوٹ بہت بُرا مرض ہے مومن کو اس سے ہمیشہ بہت ہی بچنا چاہیئے۔(رسالہ ’’ تعلیم الاسلام‘‘ ماہ فروری ۱۹۰۷ء) اِذَاظرفِ زمان ہے۔یہ عطف ہے مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ الخ پر۔پس اوّل میں تو کمالِ ایمان کا اِدّعاہے۔گویا وہ کہتے ہیں کہ ہم کامل ایمان اور کامل اصلاح والے ہیں اور اِس زمین سے مراد مدینہ منّورہ کی زمین ہے اور جن کو کہا جاتا ہے یا کہا جائے وہ تو منافق ہی ہیں۔ہاں کہنے والوں کا یقینی پتہ نہیں لگتا کہ وہ کون ہیں۔آیا اہلِ اسلام ان کو یہ کہتے تھے کہ مدینہ کی سر زمین میں فساد نہ کرو یا کہ کفّار ان کو یہ کہتے تھے۔میرا خیال ہے کہ کہنے والے کفّار ہیں اور ان کے نزدیک منافق لوگ یہ فساد کرتے تھے کہ اہلِ ایمان کے پاس جاتے اور ان سے باتیں چیتیں کرتے ہیں تو ان کے اس ملاپ کو فساد قرار دے کر اس سے منع کرتے ہیں کہ تم ان سے کیوں ملتے ہو اور جب ان کی اس ممانعت سے وہ باز نہ آتے تو پھر وہ کہتے کہ کیا ہم بھی ان نادانوں کی طرح ایمان لائیں چنانچہ انکا یہ سوال و جواب بھی اس کے بعد متّصل بدیں الفاظ خداوندِ علیم نے بیان فرمایا ہے کہا ور جب ان کو کہا جائے کہ تم ایمان لاؤ جیسا کہ وہ لوگ ایمان لائے ہیں تو کہیں گے کیا ہم ان کی مانند ایمان لائیں جو نادان ہیں)۔(رسالہ ’’ تعلیم الاسلام‘‘ قادیان ماہ فروری ۱۹۰۷ء)