حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 91
سرِدست جماعتِ اسلام تعداد میں بہت ہی قلیل اور تھوڑی سی ہے اور مسائلِ اسلام بھی جو ان کے پیش ہوئے ہیں بہت کم ہیں۔یہ بَدبخت منافق اگر اس قلیل جماعت کے سامنے تابِ مقابلہ نہیں لا سکتے اور اپنے دِل کی مرض سے بُزدل ہو کر مسلمانوں کی ہاں میں بظاہر ہاں ملاتے ہیں تو یاد رکھیں ان کا یہ کمزوری کا مَرض اَور بڑھے گا کیونکہ یہ جماعتِ اسلام روزافزوں ترقّی کرے گی اور یہ مُوذی بَدمعاش اَور بھی کمزور ہوں گے اور ہوں گے چنانچہ ایسا ہی ہؤا۔نیز اسلام کے مسائل روز بروز ترقّی کریں گے۔جب یہ لوگ تھوڑے سے مسائل کا فیصلہ نہیں کر سکتے تو اُن مسائلِ کثیرہ کا کیا فیصلہ کر سکیں گے جو یَوماً فَیَوماً روزافزوں ہیں۔بہرحال ان کا مرض اﷲ تعالیٰ بڑھائے گا اور اسلام کو ان کے مقابلہ میں ترقّی دے گا۔(نور الدین صفحہ ۸،۹) حضرت عبداﷲ بن عباسؓ اور عبداﷲ بن مسعود سے اور بہت سے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم سے بھی مروی ہے کہ مرض سے مُراد شک ہے یعنی ان کے دلوں میں شک کا مرض تھا یا بُزدلی اور صادق وکاذب اور حق و باطل میں امتیاز کرنے والی قوّت کی کمی کی بیماری تھی یا حَسد کی بیماری تھی جس کی وجہ سے آنحضرت صلّی اﷲ علیہ وسلم کے اقبال اور رفعتِ شان کو دیکھ دیکھ کر حَسد اور غم کی آگ سے جَل جاتے تھے اوردعااور بشارت ہے۔پس اِس صورت میں ترجمہ یہ ہو گا ( پس اﷲ ان کی بیماری کو زیادہ کرے) پس وہ بُزدل ہو گئے قلیل جماعت سے حالانکہ وہ روزافزوں ترقّی کر رہی ہے اور تھوڑے سے مسائل کو امتیاز نہ کر سکے حالانکہ وہ زائد ہو رہے ہیں۔(رسالہ ’’ تعلیم الاسلام ‘‘ قادیان ماہ جنوری ۱۹۰۷ء) ۔باء بمعنے سبب کے ہے اور ما مصدریہ ہے(جو کہ اپنے ما بعد کے فعل کو بمعنے مصدر بنا دیتا ہے)اورکاؔنَ کا مصدر کونؔہے اور یہ لُغتِ عرب میں مُستعمل ہے اورکاؔن دوام و استمرار کا فائدہ دیتا ہے جیسا کہ خداوندِ کریم نے فرمایا ہے کَانَ اﷲُ عَلِیْمًا (اﷲ ہمیشہ جاننے والا ہے) انسان کو جُھوٹ سے بہت ہی بچنا چاہیئے۔دیکھو کہ نفاق جیسے گندے گناہ اور مرض کا سبب بھی یہی جُھوٹ ہے۔پھر نفاق بھی ایسا کہ جس کی نسبت فرمایا ہیفَھُمْ لَایَرْجِعُوْنَ (پس وہ رجوع نہ کریں گے) اورجہاں پر آنحضرت صلّی اﷲ علیہ وسلم نے نفاق کے علامات بیان فرمائے ہیں وہاں پر فرمایا ہے کہ منافق کے پاس جب امانت رکھو تو خیانت کرے گا اور