حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 83 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 83

اور مُہرا ور وہ لاکھ ہٹا دو۔وہ خدائی مُہر خود اُکھڑ جائے گی۔سُنو وَ قَوْلِھِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ۔بَلْ طَبَعَ اﷲُ عَلَیْھَا بِکُفْرِھو(سورہ نساء رکوع ۲۲) کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اﷲُ عَلٰی کُلِّ قَلْبِ مُتَکَبِّرٍ جَبَّارٍ۔(سورہ مومن رکوع ۴) ۔(سورہ مطففین رکوع ۱) دیکھو کفر اور تکبّر اور بَد اعمالی کے کَسب سے مُہر لگتی ہے ان بُری باتوں کو چھوڑ دو، مُہر ہٹی ہوئی دیکھ لو۔خدائے تعالیٰ نے اپنے قانونِ قدرت میں یہ بات رکھ دی ہے کہ جن قوٰی سے کام نہ لیا جاوے وہ قوٰی بتدریج اور آہستہ آہستہ کمزور ہوتے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ قوٰی جن سے کام نہیں لیا گیا اسی طرح سے بیکار اور معطّل رہتے رہتے بالکل نکمّے ہو جاتے ہیں اور ان پر صادق آتا ہے کہ اب ان قوٰی پر اور ان قوٰی کے رکھنے والوں پر مُہر لگ گئی ہے۔ہر ایک گناہ کا مُرتکب دیکھ لے جب وہ پہلے پہل کسی بُرائی کا اِرتکاب کرتا ہے تو اس وقت اس کے مَلکی قوٰی کیسے مضطرب ہوتے ہیں۔پھر جیسے وہ ہر روز بُرائی کرتا جاتا ہے ویسے آہستہ آہستہ وہ اضطراب اور حیا اور تامّل جو پہلے دن اس بدکار کو لاحق ہؤا تھا وہ اُڑ جاتا ہے… انسانی نیچر اور فطرت اور اس کے محاورے کی بولی پر غور کرو۔شریر اور بد ذات آدمی کو ایک ناصح فصیح نہیں کہتا؟ کہ ان کی عقل پر پتّھرپڑ گئے، ان کے کان بہرے ہو گئے، ان کی سمجھ پر تالے لگ گئے۔کیا ان مجازوں سے حقیقت مراد ہوتی ہے؟ (فصل الخطاب حصّہ ۲ صفحہ ۱۹۳،۱۹۴)  ان تمام لوگوں میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو بتاتے ہیں کہ ہم اﷲ پر اور یَوم الآخر پر ایمان لائے اور وہ دراصل ایماندار نہیں ہیں۔اِس سے پیشتر کے رکوع میں منعَم علیہم اور مغضوب علیہ گروہ کا ذکر ہؤا ہے اور اَب ضآلّین کا ذکر ہے یعنی ان لوگوں کا جو کہ گمراہی میں ہیں۔منافق کوبھی چونکہ ڈِھل مِل یقین ہوتاہے کبھی اِدھر اور کبھی اُدھر۔صراطِ مستقیم پر اس کا قدم نہیں ہوتا اِس لئے وہ بھی ضالّ یعنی گمراہ ہوتا ہے۔