حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 76
بنا دیئے ہیں جن میں وہ کوئی دستِ تصّرف نہیں رکھتا۔اس کا قدا گر لمبا ہے تو وہ اِسے چھوٹا نہیں کر سکتا اور اگر چھوٹا ہے تو بڑا نہیں کر سکتا۔علیٰ ہٰذالقیاس اعضاء کی ساخت میں کچھ دخل نہیں دے سکتا۔تو اِس قِسم کے اعضاء پر جن میں انسان کا کوئی دخل اور تصّرف نہیں ہے۔شریعتِ اسلام نے بھی کوئی حکم انسان کو نہیں دیا کیونکہ اس میں انسان کے اِجتہاد کاکوئی دخل نہیں ہے صانع حقیقی نے جو کچھ بنا دیا وہ اُسے بہر حال منظور کرنا پڑتا ہے اور اِسی لئے جو شریعت ایسے امور میں کوئی حکم تجویز کرتی ہے وہ کبھی خدا کی طرف سے نہیں ہو سکتی۔دوسرے وہ اعضاء ہیں جن پر انسان کا دخل اور تصّرف ہوتا ہے اور ان کے فعل کے ارتکاب یا ترک پر وہ قدرت اور استطاعت رکھتا ہے مثلاً زبان کہ اِس میں ایک قوّت تو چکھنے کی ہے جس سے مزہ کی تمیز کرتی ہے کہ کھٹّا ہے یا میٹھا، نمکین ہے کہ پھیکا۔یہ اس کی ایسی قوّت ہے کہ انسان کا اس پر تصرّف نہیں ہے جو مزا شئے کا ہو گا تندرست زبان وہی محسُوس کرے گی مگر زبان سے بولنا یہ اس کی ایک اَور قوّت ہے جس پر انسان مقدرت رکھتا ہے خواہ بولے یا نہ بولے۔ایک امر واقعہ کے خلاف بیان کرے یا اس کے موافق کہے۔اِسی طرح آنکھ ہے کہ اس میں جو قوّتِ بینائی ہے اس پر انسان کا تصرّف نہیں ہے مگر کہاں کہاں نظر کو ڈالے اور کہاں کہاں نہ ڈالے یا ایک دفعہ ڈالے مگر دوسری دفعہ نہ ڈالے اِس پر انسان کا تصرّف ہے اِس لئے ایسے امور میں جن میں انسان کا تصرّف ثابت ہے احکام بتلائے ہیں کہ انسان ان کی خلاف ورزی نہ کرے۔(البدر ۲۰؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۹) اِس بیان سے یہ ثابت ہے کہ انسان کِن کِن امور میں مجبور اور کِن کِن میں مختار ہوتا ہے۔اِس لفظ مختار اور مجبور پر بھی لوگوں نے بحث کی ہے لیکن قرآن شریف اور آثارِ صحابہؓ میں یہ الفاظ کہیں استعمال نہیں ہوئے۔پھر نہیں معلوم کہ اہل اسلام کو ان الفاظ پر بحث کرنے کی ضرورت کیوں آ پڑی اور اگر یہ الفاظ استعمال میں آ گئے ہیں تو بھی ان سے ذاتِ باری پر کوئی حَرف نہیں آ سکتا صاف ظاہر ہے کہ جیسے ایک مجبور کو سزا دینی ظلم ہے ویسی ہی ایک مختار کو پکڑنا بھی ظلم ہے۔تم اس شخص کے حق میں کیا کہو گے جو ایک آدمی سے جبرًا ایک فعل کرواتا ہے اور پھر اسے اُس پر سزا دیتا ہے یا ایک شخص کو تمام اختیارات دے دیئے ہیں کہ جو چاہے کرے مگر پھر اُس کی حرکتوں پر اُسے گرفت کیا جاتا ہے ایسے آدمی کا نام سوائے احمق کے اَور کیا ہو گا۔پس یاد رکھو کہ خدا تعالیف کی ذات ایسے خطاب سے پاک ہے اور نہ اس کے علِم اور قدرت کا یہ تقاضا ہو سکتا ہے کہ