حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 75
سے سُنتے۔اَب مَیں آپ کے آگے آپ کی آنکھ کے آگے یہ رسالہ رکھتا ہوں دیکھئے آپ روحانی آنکھ سے کام لیتے ہیں یا نہیں۔اگر توجّہ کی اور کفر چھوڑا تو دیکھ لینا مُہر ٹوٹ جائے گی۔بات یہ ہے کہ ایک عام قانون جنابِ الہٰی نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے جس سے یہ تمام سوال حل ہو جاتے ہیں اور وہ یہ ہے: (الصّف:۶) جب وہ کج ہوئے خدا نے ان کے دلوں کو کج کر دیا۔یہ بات انسانی فطرت کے دیکھنے سے عیاں ہوتی ہے کہ انسان کو اﷲ تعالیٰ نے کچھ قوّتیں عطا فرماکر ان قوّتوں کے دینے کے بعد ان قوّتوں کے افعال کے متعلق انسان کو جواب دِہ کیاہے اور انہیں طاقتوں کے متعلق نافرمانی کے باعث انسان عذاب پاتا ہے مثلاً ایک ہَوادار روشن کمرہ کی کھڑکیاں عمدہ طور پر بند کی جاویں تو اس بند کرنے کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ کمرہ کے اندر اندھیرا ہو اور کمرہ کی ہَوا رُک جاوے۔یہ مثل ٹھیک ان اعمال پر صادق آتی ہے جن کا انسان جواب دِہ ہے۔اِسی طرح آتشک اور خاص سوزاک اُن لوگوں کو ہو گا جو بَدی کے مُرتکب ہوئے۔پس جب کھڑکیاں کھول دی گئیں اور پُورا اور صحیح علاج کر لیا گیا تو کمرہ پھر ہَوا دار،روشن اور مریض اچھا ہو جائے گا۔مُہریں اسلام کے رُو سے ٹوٹ بھی جاتی ہیں۔اِسی واسطے قرآن کریم میں آیا ہے(البقرۃ:۱۸۶) مُہریں ہی ٹوٹیں تو نبی کریم سے لیکر کروڑ در کروڑ آج تک مسلمان ہوئے۔ہاں تمہارے مذہب کی رُو سے مُہر کا ٹوٹنا ضرور محال ہے کیونکہ اگر مُہروں کا ٹوٹنا محال نہیں تو آپ کم سے کم اپنی گاؤ ماتا کو اس کے بھر شٹ جنم سے چھوڑاتے۔ہمیں اسے پنڈتانی بنا کر دکھاؤ تو سہی۔اِس بیچاری کا جَنم صرف سزا ہی بھوگ رہا ہے کاش اس کی مُہر ٹوٹتی تو نہ انگریزا سے مارتے اور نہ ہم پر اِتنے مقدمات قائم ہوتے۔(نور الدین صفحہ۵۷تا۶۰) مسئلہ تقدیر اور انسانی تصرّف ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کو خدا تعالیٰ نے جو قوٰی اور اعضاء دئے ہیں وہ دو قِسم کے ہیں۔ایک وہ جن پر انسان کا کو ئی دخل اور تصرّف نہیں ہے۔مثلاً انسان کیجوڑ،ہڈّیاں، پَٹّھے،پَردے