حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 69 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 69

راہِ راست پر ہونے کی دلیل ہے اور یہی وہ منہاجِ نبوّت ہے جس کو وہ دکھلاتا ہے اور کم بخت نادان دشمن نہیں دیکھتے۔کامیابی یعنی امن، آرام اور سُکھ کی زندگی کے اسباب اور اس کے اصول اس میں اﷲ تعالیٰ نے بیان فرما کر اَب آگے مغضوب علیہم گروہ کے حالات بیان کئے ہیں۔( البدر ۱۳؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۰)   یہ غضب کُفر سے پیدا ہوتا ہے۔پس فرماتا ہےجن لوگوں نے کُفر اختیار کیا وہ ایمان نہیں لائیں گے بطور جُملہ مُعترضہ اِس کی وجہ بیان فرمائی۔جملہ مُعترضہ مبتدا اور خبر کے درمیان میں کئی وجوہات سے آتا ہے۔ایک وجہ بیان کرنے کے لئے۔چنانچہ یہاں اِسی لئے فرمایا کہ برابر ہو گیا ہے ان پر تیرا ڈرانا یا نہ ڈرانا یعنی وہ کافر تیرے اِنذار اور عدمِ اِنذار کو مساوی سمجھتے ہیں۔جب کسی کی نصیحت کا عدم وجود برابر سمجھ لیا گیا تو پھر کچھ پرواہ نہ رہی۔اِس ناعاقبت اندیشی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایمان نصیب نہیں ہوتا۔تین مرضیں ہیں: سب سے پہلے تو وہ جو بات کو سُنتا ہی نہیں۔پہلے ہی سے انکار کر دیا (۲) دوسرا وہ جس نے سُنا مگر اس کا سُننا نہ سُننے کے برابر ہے(۳) تیسرا وہ جو نگاہ سے کام نہیں لیتا کہ نہ ماننے والوں کا کیا حَشر ہو رہا ہے۔کوئی بات ہو اس کو غور سے سُن لینا پھر فِکر کرنا بہتر ہے کہ یہ میرے لئے برکت کا موجب ہے یا نقصان کا۔پھر دیکھے کہ اس کے ماننے والے آرام میں ہیں یا نہیں اور اس کے نہ ماننے والوں کا انجام کیا ہو رہا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍ فروری ۱۹۰۹ء) بیشک وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا اور تیرے اِنذار اور عدم اِنذار کو برابر جانا وہ مومن نہ بنیں گے یعنی اپنے اختیار سے کُفر کیا۔کفر کے معنے انکار، حق کو چھُپانا، ڈھانک دینا۔اور یہ سب باتیں انسانی اختیار میں ہیں۔جس طرح سے اَدویات میں خواص اور تاثیرات ہیں کہ جو اُن کو استعمال کرتا