حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 68
پنے اپنے محلہ میں یا تعارف میں ایسے بدکاروں کے آخرت یعنی نتائج دیکھے تو اسے پتہ لگے گا کہ یہ آخرت کا مسئلہ بالکل ٹھیک ہے۔غفلت اور گناہ ایک ایسی شئے ہے کہ بِلا اثر کئے کے ہرگز نہیں رہ سکتا۔مثلاً اگر غلطی سے ہی کانٹالگ جاوے تو کیا اس کا دُکھ نہ ہو گا یا زہر کھا لی جاوے تو کیا ہلاکت کا باعث نہ ہو گی۔اِسی لئے خدا تعالیٰ نے بدکاروں کے انجام اپنی کتاب میں لکھ دیئے ہیں کہ عبرت ہو اور اِسی لئے پہلی باتوں کے ساتھ تو لفظ ایمان کا رکھا ہے مگر آخرت کے ساتھ یقین کا۔اور جب متّقی کے اعمال کے موافق اپنے اپنے محل اور موقع پر ہوں گے تو اس کی آخرت یہ ہو گی کہ مرتبہ یقین کا اُسے حاصل ہو گا۔(البدر ۶؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ۲۳) یہی لوگ ( جن کا اُوپر ذکر ہؤا ) اپنے رَبّ سے ہدایت پر ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو مظفّر و منصور ہوں گے۔اِس سے سابقہ آیات میں متّقی کی تعریف اور معنے بیان کر کے اب اﷲ تعالیٰ نے بطور نتیجہ کے بتلا دیا کہ متّقیوں کے لئے اِس کتاب سے ہدایت پر ہونے کے یہ معنے ہیں کہ جب انسان ایمان بالغیب رکھ کر اور حقوقِ الہٰی اور حقوق العباد کو کما حقّہ‘ ادا کر کے اور خدا تعالیٰ کے کلیم ہونے پر ایمان لا کر اپنے اعمال کے نتائج اور ثمرات پر کامل یقین رکھتا ہے تو ہر ایک حجاب دُور ہو کر اس کو کامیابی نصیب ہوتی ہے اور متّقی کے ہدایت پر ہونے کی یہ ایک دلیل بیان فرمائی ہے کہ اگر وہ کامیاب ہو جاویں تو پھر اُن کی کامیابی ان کے راہِ راست پر ہونے کی دلیل ہے۔دعوٰی کر کے دشمن پر ایک خاص غلبہ پانا ایک خاص نشان صداقت کا ہوتا ہے۔آنحضرت صلّی اﷲ علیہ وسلّم اور آپ کی جماعت کو دیکھو اﷲ تعالیٰ کا یہ کِس قدر احسان ہے اور کیسا شکر کا مقام ہے کہ ہم لوگوں کو اَب ان باتوں کو سماعی طور پرا نہیں ماننا پڑتا ہے بلکہ خدا کے کرم و فضل سے ایک اور مفلح وجود ہمارے زمانہ میں موجود ہے اور عرصہ بائیس سال سے جو کامیابی وہ دشمنوں پر حاصل کر رہا ہے وہ اس کے