حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 63
پا گیا اور صدّیق بنا۔اب بھی جو کرے گا بنے گا اور خدا اس کی محنت اور سعی کو ضائع نہ کرے گا۔اُمیدِ دِیں روا گرداں،اُمیدِ تو روا گردد زصد نومیدی و یاس و اَلَم، رحمت شوَد پَیدا در انصارِ نبیؐ بِنگر، کہ چُوں شُد کار تادانی کہ از تائیدِ دین، سر چشمۂ دولت شوَد پَیدا بجو از جان و دِل تاخدمتے از دستِ تو آید بقائے جاوداں یابی، گر ایں شربت شوَد پَیدا (البدر ۲۳؍۳۰ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۶) دوسری بات جو سکھائی گئی ہے مُنعَم علیہ بننے کے واسطے وہ شفقت علیٰ خلقِ اﷲ ہے یعنی (البقرۃ:۴)اﷲ تعالیٰ کے دئے ہوئے میں سے کچھ خرچ کرتے رہو۔یہاں کوئی چیز مخصوص نہیں فرمائی بلکہ جو کچھ اﷲ تعالیٰ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہو… اپنے ہاتھوں اور پاؤں کو خدا کے لئے مخلوق کی ہمدردی اور بھلائی میں خرچ کرو اور ایسا ہی اگر اﷲ تعالیٰ نے مال دیا ہے ، کپڑا دیا ہے ، غرض جو کچھ دیا ہے اسے مخلوق کی ہمدردی اور نفع رسانی کیلئے خرچ کرو۔مَیں دیکھتا ہوں کہ اکثر لوگ نئے کپڑے بناتے ہیں لیکن وہ پُرانے کپڑے کسی غریب کو نہیں دیتے بلکہ اسے معمولی طور پر گھر کے استعمال کیلئے رکھ لیتے ہیں مگر مَیں کہتا ہوں کہ اگرکسی کو خدا کے فضل سے نیا مِلتا ہے اورخدا تعالیٰ نے اسے اِس قابل بنا دیا ہے کہ وہ نیا کپڑا خرید کر بنائے تو وہ کیوں پُرانا اپنے کسی غریب اور نادار بھائی کو نہیں دیتا۔اگر نیا جُو تا مِلا ہے تو کیوں پُرانا کِسی اَور کو نہیں دے دیتے ہو۔اگر اتنی بھی ہمّت اور حوصلہ نہیں پڑتا تو پھر نیا دینا تو اَور بھی مشکل ہو جائے گا۔خدا تعالیٰ نے تکمیلِ ایمان کے لئے دو ہی باتیں رکھی ہیں تعظیم لِاَمرِ اﷲ اور شفقت علیٰ خلقِ اﷲ۔جو شخص اِن دونوں کی برابر رعایت نہیں رکھتا وہ کامل مومن نہیں ہو سکتا۔کیا تم میں سے اگر ایک ہاتھ ایک ٹانگ کسی کی کاٹ دی جاوے تو وہ نقصان نہ اُٹھا وے گا اِسی طرح پر ایمان کا بہت بڑا جزو ہے شفقت علیٰ خلقِ اﷲ۔مگر مَیں دیکھتا ہوں کہ اس پر زیادہ توجّہ نہیں رہی اور یہی وجہ ہے کہ ایمان کا پہلا جزو تعظیم لِاَمر اﷲ بھی نہیں رہی ہے … جب انسان اِس قِسم کا بن جاتا ہے کہ اَلغیب پر ایمان لاتا ہے اور خدا کی عبادت کرتا اور اُس کی مخلوق پر شفقت کرتا ہے پھر خدا تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ ہم اس کا بدلہ کیا دیں گے؟ یہ لوگ مظفّر و منصور ہو جائیں گے۔دُنیا میں بامراد اور کامیاب ہونے کا یہ زبردست ذریعہ ہے اور اِس کا ثبوت موجود ہے۔صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کی لائف پر نظر کرو ان کی کامیابیوں اور فتحمندیوں کی اصل جَڑ کیا تھی؟ یہی ایمان اور اعمالِ صالحہ تو تھے ورنہ اس سے پہلے وہی لوگ