حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 62 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 62

اس میں سے کچھ اﷲ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔متّقی کی چونکہ ابتدائی منازل میں نظر بہت وسیع نہیں ہوتی اور خدا شناسی کے مکتب میں ابھی اس کے داخلہ کا ہی ذکر ہے اِس لئے فرمایا کہ جو کچھ رزق ا ہم نے ان کو دیا ہے وہ اس میں سے کچھ ہماری راہ میں دیتا ہے۔اصل میں حق تو یہ تھا کہ سب کا سب ہی دے دیتا کیونکہ جس کا دیا ہے اُسی کو دیتا ہے مگر ابتدائی حالت میں جو بخل بتقاضائے نفس دخیل کار ہوتا ہے وہ ایسا کرنے سے روکتا ہے۔یہ نکتہ ایک دفعہ حضرت اقدس ۱؎ نے بیان فرمایا تھا۔یہاں رزق سے مراد خوردنی اشیاء ہی نہیں ہیں بلکہ ہر ایک نعمت جو خدا کی طرف سے انسان کو ملی ہے وہ مراد ہے یعنی وہ ہمہ تن بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لئے تیار رہتا ہے اور ہر ایک گوشہ اور پہلو سے اس خدمت کو بجا لاتا ہے۔اِس کی نظیر نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی تعلیم ہے جو کہ انسان کے ہر ایک حال اور مذاق کے موافق آپ نے دی ہے آپ کے انفاق سے جیسے ایک تاجر اسلامی اصول کے مطابق تجارت کر کے خدا کی رضاحاصل کرتا ہے ویسے ہی ایک جنگجو جنگ کی تعلیم لیکر رضائے الٰہی کو حاصل کر سکتا ہے۔خدا تعالیٰ کی رضا مندی کے واسطے اپنی عادتوں کو بدلنا، اخلاقِ رذیلہ کو چھوڑ دینا یہ بھی ایک انفاق فی سبیل اﷲ ہے۔اِسی طرح زبان سے نیک باتیں لوگوں کو بتلانی اور بُرائیوں سے روکنا بھی اس میں داخل ہے۔اگر خدا نے علم دیا ہے تو اسے لوگوں کو پڑھاوے۔اگر مال و دولت دی ہے تو اُسے اﷲ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے طریقوں سے اس کے محل پر صَرف کرے۔اﷲ تعالیٰ کی رضامندی کے واسطے خرچ کرنے والا کبھی ضائع نہیں ہوتا بلکہ اس کی اَولاد تک کی اﷲ تعالیٰ حفاظت کرتا ہے اور نہ مال اﷲ کی راہ میں خرچ کرنے سے کبھی کم ہوتا ہے بلکہ اس میں اَور زیادتی ہوتی ہے ؎ زبذل مال در راہش کسے مفلس نمے گردد خدا خود میشود ناصر اگر ہمّت شود پَیدا فی زمانہ حال انفاق کا بڑا محل یہ ہے کہ اپنے حوصلوں کو وسیع کر کے اِس الہٰی سلسلہ احمدیہ کی اشاعت کے واسطے مال و زَر دیا جاوے۔اُس وقت بھی جس نے مال و زَر سے پیار نہ کیا اور دین کی خدمت میں اُسے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے صَرف کیا وہی اعلیٰ مرتبہ