حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 61 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 61

سفر میں ہو چاہے حَضر میں جب نماز کا وقت آتا ہے چند مختصر اور پُر جوش فقرات میں اپنے خالق سے اپنے دِل کاعرض حال کر لیتا ہے۔اس کی نماز اتنی طولانی نہیں ہوتی کہ اس کا جی گھبرا جائے اور نماز میں جو کچھ وہ پڑھتا ہے اُ سکا مضمون یہ ہوتا ہے کہ اپنے عجز و انکسار کا اظہار اور خداوندِ عالم کی عظمت اور جلال کا اقرار اور اُس کے فضل و رحمت پر توکّل۔عیسائی کیا جانیں کہ اسلام میں عبادتِ خدا کا مزا کیسا کُوٹ کُوٹ کے بھرا ہے۔‘‘ (تنقید الکلام ترجمہ لائف آف محمد از سیّد امیر علی)(فصل الحظاب (ایڈیشن دوم) جلد دوم صفحہ ۱۱۷ تا ۱۳۱) نماز میں ایک خاص قِسم کا فیضان اور انوار نازل ہوتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کا برگزیدہ بندہ ان میں ہوتا ہے اور ہر ایک شخص اپنے ظرف اور استعداد کے موافق ان سے حِصّہ لیتا ہے پھر امام کے ساتھ تعلق بڑھتا ہے اور بیعت کے ذریعہ دوسرے بھائیوں کے ساتھ تعلّقات کا سِلسلہ وسیع ہوتا ہے۔ہزاروں کمزوریاں دُور ہوتی ہیں جن کو غیر معمولی طور پر دُور ہوتے ہوئے محسوس کر لیتا ہے اور پھراُن کمزوریوں کی بجائے خوبیاں آتی ہیں جو آہستہ آہستہ نشوونما پا کر اَخلاقِ فاضلہ کا ایک خوبصورت باغ بن جاتے ہیں۔(الحکم ۳۱؍مئی ۱۹۰۴ء صفحہ ۸) : مِنْ کے معنے یہاں پر ہیں بعضؔ اور کچھؔ کے۔اور مَا کے ہیں جوؔ یا شئےؔ کے یا اسؔ کے اور رَزَقْنَا رزق سے بنایا ہؤا لفظ ہے اور رزق کہتے ہیں اس چیز کو جس سے نفع اُٹھا سکتے ہوں اور کبھی بمعنے نصیب اور حصّہ کے آتا ہے اور کبھی بمعنے مرزوق یعنی جو چیز رزق کے طور پر دی جاتی ہے اور گاہے اس کے معنے شکر اور مِلک کے ہوتے ہیں۔دوم اور سوم معنوں کی مثال قرآن مجید میں بھی آئی ہے جیسا کہ فرمایا ہے (الواقعہ:۸۳)(اور اپنا نصیبہ اور حصّہ یہ بناتے ہو کہ تکذیب کرتے ہو) اور فرمایا(یونس:۶۰)( تم بتاؤ تو سہی کہ جو رزق اﷲ نے تمہارے لئے اُتارا ہے پس تم نے خود ہی اس میں سے کچھ تو حلال بنا دیا اور کچھ حرام قرار دیا) اور فرمایا وَمَا مِّنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَی اﷲِ رِزْقُھَا(ہود:۷)(اور جو کوئی زمین پر چلنے والی چیز ہے ان سب کا رزق اﷲ ہی پر ہے) ھُمْ کے معنے ہیں ان کو۔(رسالہ تعلیم الاسلام قادیان ماہِ نومبر ۱۹۰۶ء) تیسری صفت متّقی کی اِس مقام پر یہ بیان کی کہ جو کچھ رزق ہم نے