حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 60
۔(البقرۃ:۱۱۶) پھر اَور زیادہ مقصودِ حقیقی کی راہ بتاتا اور فرماتا ہے: ۔( (البقرۃ:۱۷۸)) ان آیات نے صاف بتا دیا کہ سمتِ قبلہ کی جانب توجّہ کرنا مقصود بالذّات اور اہم نہیں ہے اصلی اور ابدی نیکیاں اور آسمانی خزانے میں جمع ہونے والی خوبیاں یہی ہیں جو اِن آیات میں مذکور ہوئیں۔ایک اَور لطیف بات قابلِ غور ہے کہ آغازِ نماز میں جبکہ مسلمان رُو بقبلہ کھڑا ہوتا ہے یہ آیت پڑھتا ہے: ۔(الانعام:۸۰) وریہ آیت: ۔ ۔(الانعام:۱۶۳،۱۶۴) اِس آیت کا افتتاح میں پڑھنا خوب آشکار کرتا ہے کہ اہلِ اسلام کا باطنی رُخ اور قلبی توجّہ کدھر ہے۔کعبۂ حقیقی اور قبلۂ حقیقی انہوں نے کِس چیز کو ٹھہرا رکھا ہے۔ایک انگریز مؤرخ لکھتا ہے کہ: ’’ فضائلِ اسلام میں سے ایک یہ بھی فضیلت ہے کہ اسلام کے معابد ہاتھ سے نہیں بنائے جاتے اور خدا کی خدائی میں ہر مقام پر اس کی عبادت ہو سکتی ہےِ (البقرۃ:۱۱۶) جس مقام پر خدا کی عبادت کی جاوے وہی مقام مقدّس ہے اور اُسی کو مسجد سمجھ لیجئے۔مسلمان چاہے