حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 59 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 59

کی جانب نماز میں مُنہ پھیرا۔اس ربّانی الہامی تدبیر سے قریشِ مکّہ جو نہایت بُت پرست تھے اور اہلِ کتاب اور ان کے مذاہب کو بہت بُرا جانتے تھے مسلمانوں کی جماعت سے بالکل الگ ہو گئے اب کوئی منافق ظاہر طور پر بھی شامل ہونے کو گوارا نہ کر سکا اور خاص مکّہ میں بُجز خالص مخلص اصحاب اور یارانِ جاں نثار کے اَور کوئی پَیرو نہ بنا۔اِس تدبیر سے ایک اَور عظیم فائدہ یہ ہؤا کہ بانی کو اپنے مِشن کی ترقّی اور خالص پَیروؤں کا اندازہ معلوم ہو گیا اور آئندہ کے واسطے معتمد وفاداروں اور غدار منافقوں میں امتیاز کُلّی ہو گیا۔پھر جب مدینہ میں آپ تشریف لے گئے جہاں بکثرت یہود رہتے تھے اور جو اوّل اوّل باغراصِ مختلفہ آپ کی تشریف آوری سے خوش ہوئے اور آپ کے تابعین میں خوب مِل جُل گئے۔پھر آخر اپنی امیدوں کے برخلاف دیکھ کر خفیہ خفیہ اِضرارو اِفساد میں ریشہ دوانی کرنے لگے تب آنحضرت نے ربّانی الہامی ہدایت سے، جو ایسے تاریک وقتوں میں اپنے پاک نبیوں کو کشائش کی راہ دکھاتی ہے، اصلی قدیمی ابراہیم عیہما السلام اسمٰعیل عیہما السلام کے بَیت اﷲ کی طرف نماز میں توجّہ کی اِس سے خالص انصار اور غدّار یہودیوں میں امتیاز کی راہ نکل آئی۔قرآن بھی اسی مطلب کا اشارہ کرتا ہے۔  (البقرۃ:۱۴۴) اِس بات کو بھُولنا نہیں چاہیئے کہ ایسی جدید قوم کو جس کے استیصال کے درپے مختلف قومیں ہو رہی تھیں ایسے نئے مذہب کو جسے اولاً مخلصین و منافقین میں تمیز کرنا اور دشمنوں کے جابرانہ حملوں کا اِندفاع اختیار کرنا تھا نہایت ضرور تھا اور عقلاً، نقلاً اس سے بہتر نہیں ہو سکتا تھا کہ ایسی ہی تدبیر سے کام لے۔پس گو ابتداء میں سمتِ قبلہ کسی مصلحت کے لئے معیّن کی گئی ہو اور عادۃ اﷲ نے اس میں کوئی راز مرکوز رکھا ہو مگر انتہا میں بھی یادگار کے طور پر اور اِس امر کے نشان اور یاد آوری کیلئے کہ یہ کامل مذہب ،یہ توحید کا آفتاب اُسی پاک زمین سے نمودار ہؤا۔وہ خداوندی حکمت بحال رکھی گئی ورنہ اہلِ اسلام کا عقیدہ تو یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کی ذات مکان اور جہت کی قید سے منزّہ ہے اور عنصری و کونی صفات سے اعلیٰ اور مبّرا ہے۔کوئی جہت نہیں جس میں وہ مقیّد ہو۔کوئی خاص مکان نہیں جس میں مخصوصًا وہ رہتا ہو۔اسی مطلب کی طرف قرآن کریم اشارہ کرتا ہے اور معترض کے اعتراص کو اپنے علِم بسیط سے پہلے ہی رَدّ کر دیا ہے۔