حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 58
محلِّ اعتراض نہیں۔اُس ہادی کو جس نے تمام دُنیا کی متداولہ عبادت کے طریقوں سے جن میں شِرک اور مخلوق پرستی کے جُزوِ اعظم شامل تھے اپنے طریقِ عبادت کو خالص کرنا منظور تھا اور ایک واضح و ممتاز مَسلک قائم کرنا ضرور اِس لئے واجب ہؤا کہ وہ اپنی اُمّت کے رُخِ ظاہر کو بھی ایسی سمت کی طرف پھیرے جس میں قوٰی روحانی کی تحریک اور اشتعال کی قدرت و مناسبت ہو۔ہر ایک مسلمان کو یقین ہے کہ مکّہ میں بَیت اﷲ کو توحید کے ایک بڑے واعظ نے تعمیر کیا اور آخری زمانے میں اسی کی اَولاد میں سے ایک زبردست کامل نبیؐ مکمّل شریعت لے کر ظاہر ہؤا جس نے اس پہلی تلقین و تعلیم کو پھر زندہ اور کامل کیا۔پس نماز میں جب ادھر رُخ کرتے ہیں یہ تمام تصوّر آنکھوں میں پھر جاتے ہیں اور اس مصلحِ عالَم کی تمام خدمات اور جانفشانیاں جو اس نے اعلائے کلمتہ اﷲ میں دکھلائیں یاد آ جاتی ہیں۔یاد رہے کہ نماز علاوہ ان تمام خوبیوں کے جو اس پر مداومت کا لازمی نتیجہ ہیں بڑا بھاری قومی امتیاز اور نشان ہے۔روزہ ، حج، زکوٰۃ وغیرہ میں ایک منافق مسلمانوں کو دھوکا دینے یا انکے رازوں پر مطلع ہونے کے لئے شامل ہو سکتا ہے اور اس کی قوم کو اس پر اطلاع بھی نہ ہو کیونکہ ان امور کی بجا آور ی میں اپنی قوم کے نزدیک وہ کسی بیماری لزوم فاقہ سفر و تفرّج یا خیرات کا حیلہ تراش سکتا ہے اور مسلمان بھی اُسے بے تردّد و فادار مسلمان کہہ سکتے ہیں بشرطیکہ انہیں اُمور میں مسلمان ہوتا محصور ہو مگر سخت مشکل اور پردہ بر انداز امر نماز ہے جسے کوئی شخص بھی جو اپنے مذہب کا کچھ بھی پاس اور ہَیبت دِل میں رکھتا ہو کبھی بھی ادا کرنا گوارا نہیںکر سکتا خصوصًا ایک علیحدہ قومی نشان اور ایک بالکل الگ ہَیٔت میں الگ مذہبی سمت کی طرف متوجّہ ہو کر اور بایں ہمہ اپنی قوم میں بھی شامل رہے ناممکن ہے۔اب غور فرمائیے آنحضرت صلّی اﷲ علیہ وسلّم کو اس خصوص میں کیا مشکلات پیش آئیں۔تاریخ اور قومی روایت متّفقًا شہادت دیتی ہے کہ بَیت اﷲ زمانہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام سے برابر اَبًا عَنْ جَدٍّ قوموں کا مرکز اور جائے تعظیم چلا آیا ہے۔کفّارِ مکّہ گو بُت پرستی کے لباس میں تھے اس بَیت ایل کو مقدّس عبادت گاہ یقین کرتے۔جب آنحضرت صلّی اﷲ علیہ وسلّمنے دینِ حق کا وعظ شروع فرمایا اورخدا کا کلام د ن بدن پھیلنے لگا اور دشمنانِ دین مخالفت میں ہر طرح کے زور لگا کر تھک گئے آخر یہ حیلہ سوچا کہ نفاقًااِسلام میں داخل ہو گئے اور اِس طرح وہ لوگ سخت سخت اذیّتیں اور مخفی دیرپا مصائب مسلمانوں کو پہنچانے لگے بِنَاًء عَلٰی ھٰذَا۔بانی ٔ مذہب کو ضرور ہؤا کہ اس معجونِ مرکّب کے اجزا کی تحلیل کے لئے کوئی بھاری کیمیاوی تجویز نکالے۔آپ نے ابتداء ً مکّہ میں بَیت المقدس