حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 57
اور پاؤں سے پاؤں ملا کر ایک ہی سچّے معبود کے حضور میں کھڑا ہونا قومی اتفاق کی کیسی بڑی تدبیر ہے ساتویں دن جمعہ کو آس پاس کے چھوٹے قریوں اور بستیوں کے لوگ صاف و منظّف ہو کر ایک بڑی جامع مسجد میں اکٹھے ہوں اور ایک عالم بلیغ تقریر ( خطبہ) حَمد و نعت کے بعد ضروریاتِ قوم پر کرے۔عیدین میں کسی قدر دُور کے شہروں کے لوگ ایک فراخ میدان میں جمع ہوں اور اپنے ہادی کی شوکت مجسّم کثیر جماعت بن کر دُنیا کو آفتابِ اسلام کی چمک دکھاویں اور بالآخر اس پاک سر زمین میں اس فاران میں جہاں سے اوّلاً نورِ توحید چمکا۔کُل اقطارِ عالَم کے خدا دوست حاضر ہوں ساری بچھڑی ہوئی متفرّق اُمّتیں اسی دنگل میں اکٹھی ہوں۔وہاں نہ اس مٹی اور پتّھر کے گھر کی بلکہ اس رَبّ الارباب معبود الکُل کی جس نے اس اَرضِ مقدّسہ سے توحید کا عظیم الشّان واعظ بے نظیر ہادی نکالا، حَمد و ستائش کریں۔(۵) اِسی طرح ہر سال اس یادگار ( بَیت اﷲ ) کو دیکھ کر ایک نیا جوش اور تازہ ایمان دِل میں پَیدا کریں جو بحسب تقاضائے فطرت ایسی یادگاروں اور نشانوں سے پیدا ہونا ممکن ہے۔سخت جہالت ہے اگر کوئی اہلِ اسلام کیسی موحّد قوم کو مخلوق پرستی کا الزام لگاوے۔ایسے شخص کو انسانی طبیعت کے عام مَیلان اور جذبات کو مدِّنظر رکھ کر ایک واجب القدر امر پر غور کرنا چاہیئے کہ اگر قرآن کے پورے اور خالص معتقدین کے طبائع میں بُت پرستی ہوتی تو ان کو اپنے ہادی منجّی محمد مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وسلم کے روضۂ مقدّسہ سے بڑھ کر کونسا مرجع تھا۔اﷲ تعالیٰ نے مکّہ معظمہ میں آنحضرت صلّی اﷲ علیہ وسلّمکا مرقد مبارک نہیں ہونے دیا تاکہ توحیدِ الہٰی کا سرچشمہ پاک ہر قِسم کے شائبوں اور ممکن خیالات کے گرد و غبار سے پاک صاف رہے اور مخلوق کی فوق العادت تعظیم کا احتمال بھی اُٹھ جائے۔مسلمانوں کے ہادی علیہ الصّلوٰۃ و السّلام کی آخری دُعا ’’ اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِیْ مِنْ بَعْدِیْ عِیْدًا‘‘اے اﷲ میری قبر کو میرے بعد عید نہ بنائیو۔خوب یاد ہے اور وہ بجان و دل اپنے نبی کی اس دُعا کے ظاہر نتیجے کی تصدیق کر رہے ہیں اور ہمیشہ اَشْھَدُ اَنْ لَّا ٓاِلٰہَ اِلَّا اﷲُکے ساتھ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہ‘ وَ رَسُوْلُہ‘ پڑھ کر اﷲ اور عبد میں امتیازبیّن دکھلاتے ہیں۔بہت صاف امرہے اور حقیقت شناس عقل کے نزدیک کچھ بھی