حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 56 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 56

وتعالیٰ کی حَمدو ستائِش کرنے کی کیسی مشتاق رہتی ہے اور نماز کے اَوقات مقرر کر دینے سے آپؐ نے ایک ایسا مضبوط قاعدہ نماز گزاری کا معیّن کر دیا کہ نماز کے وقت انسان کا دِل عالَمِ روحانی سے عالَمِ مادی کی طرف ہرگز متوجّہ نہیں ہو سکتا۔جو صورت اور ترکیب آپؐ نے نماز کی اپنے قول و فعل سے مقرر کر دی ہے اس میں یہ خوبی ہے کہ اہلِ اسلام ان خرابیوں سے محفوظ رہے ہیں جو اس لڑائی جھگڑے سے پَیدا ہوتی تھیں جو عیسائیوں میں نماز کی ترکیب پر ہمیشہ ہؤا کرتے تھے اور پھر ہر مسلمان کو گنجائِش رہی کہ بکمال خشوع و خضوع سے عبادتِ خدا میں مصروف ہو۔۱؎ پابندیٔ اَوقات میں ایک قدرتی تاثیر ہے کہ وقتِ معیّنہ کے آنے پر قلبِ انسانی میں بے اختیار جذب و مَیلان اِس ڈیوٹی کے ادا کرنے کے لئے پیدا ہو جاتا ہے اور روحانی قوٰی اس مفروض عمل کی طرف طَوعًا و کرہًا منجذب ہو جاتے ہیں۔جُو نہی اس غیر مصنوعی ناقوس ( اذان) کی آواز سُنائی دیتی ہے ایک دیندار مسلمان فی الفور اس الیکٹرسِٹی کے عمل سے متاثر ہو جاتا ہے۔پابندِ صلوٰۃ گویا ہر وقت نماز ہی میں رہتا ہے کیونکہ ایک نماز کے ادا کرنے کے بعد معًا دوسری نمازاکی تیاری اور فکِرہو جاتی ہے۔نمازِ پنجگانہ کا باجماعت پڑھنا اورجمعہ و عیدین کی اقامت جس حکمت کے اصول پر مبنی ہیں۔انتظاماتِ ملکی کا دقیقہ شناس اس کی خوبی سے انکار نہیں کر سکتا۔ہزاروں برسوں کے دَور کے بعد جو دُنیا نے ترقی کی اور چاروں طرف غلغلۂ تہذیب بلند ہؤا اس سے بڑھ کر اَور کوئی ۱؎ (تنقید الکلام ترجمہ لائف آف محمدؐ از سیّد امیر علی) تجویز کِسی کی عقل میںنہ آئی کہ کلب بنائے جائیں انجمنیں منعقد ہوں اور وقت کی ضروریات کے موافق قوم کو بیدار کرنے والی تقریریں کی جائیں لیکن ظاہر ہے کہ بایں ہمہ ترقّیٔ عُلوم ایسی انجمنوںکے قیام و استحکام میں کِس قدر دِقّتیں واقع ہوتی ہیں مگر مبارکی ہو اس افضل الرّسل خاتم الرسالت کو کہ اس نے کیسے وقت میں کیسی انجمنیں قائم کیں۔ان کے قیام و استحکام کے کیا کیا طریقے نکالے جنہیں کوئی مزاحم کوئی مانع توڑا نہیں سکتا۔اعضائے انجمن کے اجتماع کے لئے ٹِکٹ جاری کئے جاتے ہیں۔اشتہار چھاپے جاتے ہیں۔اِس الہٰی طریق میں وقتِ معیّن پر اذان دی جاتی ہے جو اس پاک انجمن ( مسجد ) میں پہنچائے بغیر چھوڑ ہی نہیں سکتی۔قُرب و جوار کے لوگوں کا ہر روز پانچ مرتبہ ایک جگہ میں جمع ہونا اور پھر شانے سے شانہ جوڑ