حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 55
کِس نے کبھی ایسی ترئی پھُونکی جس کی دِلکش آواز معًا روحانی جوش اور ولولہ تمام ظاہر وباطن میں پَیدا کر دیئے۔اﷲ اکبر کیسی صداقت ہے کہ ایک قوم علی الاعلان صبح و شام پانچ دفعہ اپنے بے عیب عقیدے کا اشتہار دیتی ہے۔تعیین اَوقات، پابندیٔ وقت۔آہ کیسے مقبول کلمات ہیں کہ جب کِسی قوم کی ترقّی کی راہ کُھلی۔اسی مشعلِ جان افروز کے نور سے تمام موانعات کی تاریکی دُور ہوئی۔شریعتِ موسوی میں احکامِ نماز منضبط نہیں ہوئے تھے۔توریت طریقِ نماز سے بالکل ساکت ہے صرف علمائے دین کو وہ یکی دیتی اور پلوٹھے لڑکے کوہیکل مقدّس میںلا کر نذر کر دیتی وقت خاص دعا پڑھی جاتی اور لڑکے کا باپ تمام احکامِ شرعی کو بجا لا کر یہوواہ سے دعامانگتا تھا کہ اس اسرائیلی لڑکے کو برکت دے جیسے تُو نے اس کے آباواجداد پر برکت نازل کی تھی۔لیکن جب یہود اور ان کے علماء کا اعتقاد باری تعالیٰ کی نسبت زیادہ تر معقول اور پاکیزہ ہو گیا اور خداوندِ عالَم کے مشّکل بشکل اِنسان ہونے کا فاسدعقیدہ دفع ہونے لگا تب نماز یا دعا کی حقیقت ان کی سمجھ میں آنے لگی کہ نماز انسان کے لئے بارگاہِ الہٰی سے تقرّب کا وسیلہ ہے مگر چونکہ شریعتِ موسوی میں کوئی خاص قاعدہ نماز کا مقرر نہ تھا لہٰذا روایت اور رواج پر مدار رہا اور بقول ڈالنجر صاحب کے یہود بھی ایک نماز گذار قوم ہو گئے اور ہر روز تین گھنٹے عبادتِ خدا کے قرار دئیے گئے یعنی نو بجے اور بارہ بجے اور تین بجے مگر چونکہ نماز میں مجتہدین کی ضرورت تھی اور اس کا عِلم قطعی نہ تھا کہ خود حضرت موسٰی علیہ السلام کیونکر نماز پڑھتے تھے لہٰذا اکثر اَوقات یہود کی نماز صرف ایک مصنوعی فعل ہوتا تھا۔حضرت مسیحؑ نے جو آخری رسول یہود کے تھے اور ان کے حوارییّن نے بھی عبادت کی تاکید کی مگر افسوس اس میں بھی یہ نقص رہ گیا کہ کوئی محدود و معیّن قاعدہ نماز کا انہوں نے ترتیب نہ دیا اِس لئے چند عرصے کے بعد عبادتِ خدا کا معاملہ بالکل عوام النّاس کی رائے پر موقوف ہو گیا اور پادریوں ہی کے اختیار میں رہا جنہوں نے نماز کی تعداد اور مدّت اور الفاظ وغیرہ مقرر کرنا اپنے ہی فرقے میں منحصر کر دیا اِسی وجہ سے دعاؤں کی کتابیں تصنیف ہوئیں اور قسّیسین کی کمیٹیاں اور مجلسیں منعقد ہوئیں تاکہ اصولِ دین اور ارکانِ ایمان مقرر کریں اور اِسی وجہ سے راہبوں نے عجیب پُر تکلّف طریقہ عبادت کا نکالا اور گرجوں میں ہفتہ وار نماز قرار دی گئی یعنی چھ روز کی غذائے روحانی نہ ملنے کی مکافات صرف ایک روز کی نماز سے کی گئی۔الغرض یہ سب خرابیاں منتہٰی درجے کو پہنچ گئیں کہ ساتویں صدی عیسوی میں رسولِ عربی صلّی اﷲ علیہ وسلّم نے ایک مہذّب اور معقول مذہب تلقین کرنا شروع کیا۔آنحضرتصلّی اﷲ علیہ وسلّم نے نمازِ پنجگانہ کا طریق اِس لئے جاری کیا کہ آپصلّی اﷲ علیہ وسلّم خوب جانتے تھے کہ انسان کی روح حق سبحانہ