حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 54
میں کچھ روحانی ترقّی نہیں ہوئی تو شریعتِ اسلامی ایسی نماز کو مستحق درجات ہرگز نہیں ٹھہراتی۔اب مجاز و ظاہر کہاں رہا۔نبی ٔ عرب علیہ الصّلوٰۃ کے لئے کچھ کم فخر کی بات نہیں اور اس کے خدا کی طرف سے ہونے کی قوی دلیل ہے کہ اس نے خدا کی عبادت کو طبلوں، مزماروں، سارنگیوں اور بربطوں سے پاک کر دیا۔اﷲ کے ذکر کی مسجدوں کو رقص و سرود کی محفلیں نہیں بنایا اور یہاں تک احتیاط کی کہ تصاویر اور مجسّمہ بنانے کی اور مسجدوں میں مُوہم بالشرک نقش و نگار کرنے کی قطعی ممانعت کر دی کہ ایسا نہ ہو یہی مجاز رفتہ رفتہ مبدّل بحقیقت ہو کر اور یہی مجسّمے معبودی تماثیل بن کر توحید کے پاک چشمے کو مکدّر کر ڈالیں۔جب ہم ایک خوش قطع گر جا میں عیسائی جُھنڈ کو بزعم عبادت جمع ہوئے دیکھتے ہیں۔سجے سجائے بنے ٹھنے۔نیٹو انیاں اور گوری گوری یورپانیاں قرینے سے کُرسیوں پر ڈٹی ہوئیں۔اس وقت ہمیں عیسائیوں کا یہ فقرہ ’’ کہ مسلمانوں میں صرف رسمی اور مجازی عبادت ہے‘‘ بڑا حیرت انگیز معلوم ہوتا ہے۔یقیناً اہل اسلام کی غیّور طبیعت نصارٰی کی اس حقیقت سے آشنا ہونے کی کبھی کوشِش نہ کرے گی۔(۴) اِس موقع پر طریق اذان پر بھی کچھ تھوڑا سا لکھنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ہر قوم نے پراگندہ افراد کو جمع کرنے یا منشائے عبادت کو حرکت دلانے کے لئے کوئی نہ کوئی آلہ بنا رکھا ہے۔کسی نے ناقوس نرسنگا کِسی نے گھنٹے گھنٹیاں مگر انصاف شرط ہے۔ان میں سے کوئی وضع بھی اذان سے مقابلہ کر سکتی ہے؟ اس پیارے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے جس کی واقعی صفت میں قرآن فرماتا ہے: ( الاعراف:۱۵۸) ان تمام رسمی بندشوں،سیپوں اور سینگوں کی تلاش سے اُمّت کو سبکدوش کر دیا۔ذری اِنصاف سے اِن کلمات کو سوچو۔اس ترکیب کے سر پر نگاہ کرو کہ کوئی قوم بھی دُنیا میں ہے جو اِس شَدّ و مَد سے پہاڑوں اور مناروں پر چڑھ کر اپنے سچّے اصولوں کی ندا کرتی ہے؟ عبادت کی عبادت اور بُلاہٹ کی بلاہٹ۔دُنیا میں ہزاروں حکماء اور ریفارمر گزرے ہیں اور قومی گڈریئے پَیدا ہوئے ہیں مگر تِتّر بِتّر ہوئی بھیڑوں کے اکٹھا کرنے اور ایک جہت میں لانے کا کِس نے ایسا طریق نکالا؟