حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 53 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 53

ثابت کر رہے ہیں پس اب اصل وجود ارکان پر زیادہ قلم فرسائی کرنے کی ضرورت نہیں رہی ہاں شاید مقابلہ بَین الصّور تین منظور ہو تو خدا پرست قلب کی اعانت سے غور کریں کہ اسلامی طریق میں کیسا جلال ، کمال، تمکین اور وقار پایا جاتا ہے۔اس بیرنگ، بیُچوں، واحد،احد،لَم یلد، لَم یُولد کے حضورِاقدس میں بے رنگ، بے تصویر مکان میں باوقار ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونا، اﷲ اکبر سے افتتاح کرنا اور سورۃ فاتحہ جیسی پُر معنی دعا کا پڑھنا اور پھر فرطِ انکسار سے اﷲ اکبر کی عظمت کا تصوّر کرکے پُشتِ مستقیم کو جُھکا کر سَبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم پڑھنا اورپھر زمین پر مُنہ رکھ کر بال گِرا کر سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہنا کیایہ کم اثر کرنے والے اعمال ہیں۔کیا یہ فطرتِ انسانی کے موافق نہیں ہیں؟ مَیں نہیں سمجھتا کہ ایک ایسے شخص کو جو عبادتِ حق کو کسی صورت میں کیوں نہ ہو انسان کی عبودیّت کا لازمی فرض جانتا ہے اسلامی صورت نماز سے انکار ہو۔یہاں ایک اَور لطیف بات سوچنے کے قابل ہے کہ اسلامی احکام دو قِسم کے ہیں احکامِ اصلی اور تابع یا محافظ اصلی۔مقصود بالذّات احکامِ اصلی ہوتے ہیں اور احکامِ محافظ صرف احکامِ اصلی کی بقا اور حفاظت کے لئے وضع ہوئے ہیں۔نماز کے سب ارکان ظاہری احکامِ محافظ ہیں اور اِس امر کا ثبوت اس وقت بخوبی ہوتا ہے جب یہ ارکان عُذر کی حالت میں انسان کے ذمّے سے ساقط ہو جاتے ہیں مثلاً نماز میں بحالت مرض علیٰ اختلاف ا لاَحوال قومہؔ، قعدہؔ،جِلسہؔوغیرہ سب معاف ہو جاتے ہیں مگر وہ اصلی حکم اور حقیقی فرض جو مقصود بالذّات ہے یعنی قلبی خشوع و خضوع جب تک قالبِ عنصری میں سانس کی آمد و رفت کا سِلسلہ جاری ہے کبھی بھی انسان کے ذمّے سے نہیں ٹلتی۔یہی اور صرف یہی نماز ہے جسے اِسلام نے لائقِ اعتبار اور مستحق ثواب کہا ہے۔سُنو ( الاعراف:۲۰۶)  (العنکبوت:۴۶) اور اِن آیات سے نماز کی علّتِ غائی خوب طاہر ہوتی ہے کہ نماز مُنکرات اور فواحش سے محفوظ رہنے کے لئے فرص کی گئی ہے اگر نماز کی اقامت اور مداومت سے نمازی کے اقوال و افعال