حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 52
جن کے قلوب کِبروریا سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں لکھا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ سب سے اہم اور اعظم طہارت پاک کرنا دِل کا ہے تمام بُری خواہشوں اور بیہُودہ رغبتوں سے اور دفع کرنا ہے نفس سے تمام مکروہ مذموم خیالات کو اور ان تصوّرات کو جو انسان کے دِل کو خدا کی یاد سے باز رکھتے ہیں۔جب ہم نے اِتنا ثابت کر دیا کہ قلبی حالت اعضاء و جوارح کو حرکت دیئے بغیر رہ نہیں سکتی اور یہ کہ ظاہر و باطن میں لازم و ملزوم کی نسبت ہے تو گویا نفس ارکانِ نماز سے کچھ بحث نہیں کیونکہ جذباتِ قلب اور اس کی واردات کا ظہور اور کیفیّتِ روحانی کے عروض کا ثبوت اعضاء و جوارح کی زبانِ حال ہی سے مِل سکتا ہے البتہ گفتگو اِس امر میں رہ جاتی ہے کہ آیا یہ ہیٔت مقتضائے فطرتِ انسانی سے مناسبت رکھتی ہے یا نہیں یا اس سے بڑھ کر اور پسندیدہ صورت و ترکیب فلاں قانون اور فلاں مذہب میں رائج ہے یا اب نئی صورت وہم و تصوّر میں آ سکتی ہے۔مَیں بڑی جرأت اور قوی ایمان سے کہتا ہوں کہ اس کی مثال یا اس سے بڑھ کر مقبول و مطبوع صورت نہ تو کِسی مذہب میں رائج ہے اور نہ اَور نئی عقل میں آ سکتی ہے۔یہ جامع مانع طریق ان تمام عمدہ اصولوں اور مسلّمہ خوبیوں کو حاوی ہے جو دُنیا کے اَور مذاہب میں فرداً فرداً موجود ہیں اور تمام اُ ن نیازمندی کے آداب کو شامل ہے جو ذوالجلال معبود کے عرشِ اعظم کے سامنے قوائے انسانی میں پیدا ہونے ممکن ہیں وہ خاص اَو ادوکلمات جو اس مجموعی ترکیب کے اجزا۔قومہ، رکوع، قعدہ، سجود، جِلسے وغیرہ میں زبان سے نہیں دِل سے نکالے جاتے ہیں۔اِس کی بے نظیری کے کافی ثبوت ہیں۔انصاف سے سوچئے کہ یہ ہَیئات قوائے قلبی پر کِس قدر قوی اثر کرنے والی ہے۔تعیین ارکان سے کون قوم انکار کر سکتی ہے۔دعا میں سرننگا کرنا، سیدھا کھڑا ہونا، آنکھیں بند کرنا، آخر میں برکت دیتے وقت ایک ہاتھ لمبا کرنا اور ذرا اُنگلیوں کو نیچے کی طرف جُھکانا اور کبھی کبھی خاص حالت میں گُھٹنے ٹیکنا یا گُھٹنے پر کُہنی ٹکا کر اُوپر سر رکھ دینا۔یہ سب امور بتفاوت نصارٰی میں معمول ہیں۔کوئی انہیں کہے ان ظاہری رسوم سے کیا نکلتا ہے عبادت دِل سے تعلق رکھتی ہے اسی پر اکتفا کرنا چاہئیے صاف بات کا وہ کیا جواب دیں گے۔پس اسلامی صورت سے کیوں چڑتے ہیں۔(۳) مجھے امید ہے کہ نصارٰی نفس وجود ارکان سے تو کچھ تعرّض نہ کریں گے کیونکہ اس طبعی حالت میں وہ اضطرارًا اہلِ اسلام کے ساتھ شریک کر دیئے گئے ہیں بایں معنی کہ وہ یہی دعا یا نماز میں کسی نہ کسی صورت و رُکن کا ہونا تو ضرور تسلیم کرتے ہیں۔اگر زبان سے اور مذہبی مباحث کے وقت میں عملاً تو