حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 528 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 528

تھوڑی سی بات پر بڑی باتوں کا اِمتحان کیا جاتا ہے۔اس زمانہ میں تو یہ مسئلہ صاف ہے کیونکہ ہر امر کے لئے امتحان لیا جاتا ہے۔امتحان کے معنے ہیں کسی کی محنت کو جانچ لینا اوراس کا بدلہ دینا۔ایک جگہ فرمایا ہے (الحجرات:۴)پھر ایک امتحان کا ذکر بقرہ میں کیا ہے  (البقرۃ:۲۵۰)۔اب ایسا ہی جہاد کے لئے ایک امتحان ہے کہ سُود لینا چھوڑدو کیونکہ بیاج خود مال میں وسعتِ حوصلہ سے کام نہیں لے سکتا اور جو مال خدا کی راہ میں نہیں چھوڑ سکتا وہ جان کیونکر دے گا۔پس یہاں فرمایا کہ اوّل تو تم سُود کو چھوڑ دو۔رِبٰوکے لفظ پر بعض لوگوں نے بحث کی ہے۔کہتے ہیں کہ ربٰو کے معنے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بیان نہیں کئے۔ان نادانوں سے کوئی پوچھے کہ کیا قرآن کے لفظ لفظ کے معنے حدیثوں میں آئے ہیں؟جب خدا تعالیٰ ایک چیز کو حرام فرماتا ہے اور اس کی خلاف ورزی کو خدا سے جنگ قرار دیتا ہے تو کیا وہ ایسا لفظ تھا جس کے معنے لُغتِ عرب سے واضح نہ ہوتے ہوں۔نقدی کے اُوپر میعادِ معیّنہ کے لحاظ سے زیادہ لینا سُود کہلاتا ہے۔ہاں بعض باریک باتیں بھی ہیں جو عام فہم نہیں ہیں مگر تاہم کوئی ایسی مشکل بات نہیں۔بعض نابکار لوگ کہتے ہیں کہ سُود کے بغیر کام نہیں چل سکتا حالانکہ بارہ سَو برس ( بارہ سو برس مَیں نے اس لئے کہا کہ تیرھویں صدی میں مسلمانوں نے سُود لینا شروع کر دیا) کا تجربہ بتاتا ہے کہ بغیر سُود کے سب کام چل سکتے ہیں۔مَیں اِس بات کا گواہ موجود ہوں کہ بغیر ربٰو کے لینے اور دینے کے انسان تمام کام کر سکتا ہے۔مَیں نے بھی ملازمت کی۔کاشت کاری بھی کی۔تجارت بھی کی۔لاکھ لاکھ روپے کی تجارت کی مگر مجھے کبھی سُود کی ضرورت نہیں پڑی۔ایسے ایسے وقت بھی مجھ پہ گذرے ہیں کہ رات کو کھانے کے لئے سامان نہیں مگر پھر بھی میرے مولیٰ نے میری دستگیری کی۔:اس کے ترجمے کے لئے مَیں نے بہت غور کیا ’’ بڑھ بڑھ کر‘‘ سے زیادہ کوئی لفظ اِس مفہوم کو ادا کرنے والا نہیں۔یہ معنے کرنے کہ ایک کے سات سَو پھر سات سَو کا دُگنا چودہ سَو ایک روپیہ پر بیاج لینا منع ہے بہت ہی حماقت ہے۔ایک سُود کی وہ قِسم بھی ہے جو لینا پڑتا ہے۔مثلاً ملازموں کی تنخواہ سے کچھ حصّہ کاٹا جاتا ہے بینک کا سُود ہے اسے میرے خیال میں مالِ غنیمت سمجھنا چاہیئے اور اسے کسی نیک کام میں لگا دینا چاہیئے۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۵؍جولائی ۱۹۰۹ء