حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 51 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 51

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَھِّرِیْنَ۔سُبْحٰنَکَ اَللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْکَ۔غسلِ جنابت میں بھی یہی دعا مانگی جاتی ہے اور بعد اِس دعا کے یہ فقرہ کہا جاتا ہے ’’ اَب غسل پُورا ہؤا‘‘۔یعنی ظاہر باطن سے مِل کر پُورا ہوا۔یاد رکھنا چاہیئے کہ عذر اور ضرورت کے وقت یہ طہارت ساقط ہو جاتی ہے۔یہ کافی دلیل اِس امر کی ہے کہ عمل ہی صرف مقصود بالعرض ہے۔مثلاً پانی نہ ملنے کی صورت میں غسل اور وضو دونوں حالتوں میں اِس آسان شریعت نے تیمم کر لینے کا حکم دیا ہے جس سے مقصود اِتنا ہے کہ اعضائے ظاہری کا جَرس بجا کر قوائے باطنی کے غافل قافلے کو بیدار اور برسرِکار کیا جائے۔یہ ناپاکی اور پاکی ( طہارت ) کا لفظ اور اس کا مفہوم اسلام میں ایسا نہیں بَرتا گیا جیسا وسوسہ ناک طبائع اور وہمی مزاجوں کے درمیان معمول ہؤا ہے کہ انسان کی ذات میں کوئی ایسی نجاست نفوذ کر گئی ہے جس نے اس کو گھناؤ نا اور لوگوں کے پرہیزو اجتناب کا محل بنا دیا ہے اور جس کا ازالہ سوائے اس ظاہری طہارت کے ہو نہیں سکتا۔مَیں سچ سچ تمہیں بتاتا ہوں کہ اسلام ان توہمات سے بالکل پاک ہے۔اَحبار باب ۱۵ آیت ۱ تا ۱۸ میں ہے کہ ’’ جریان والا کپڑے دھووے اور غسل کرے۔شام تک ناپاک ہے اور جس پر وہ سوار ہو اور جو کوئی اس کی سواری کو چُھوئے وہ بھی ناپاک۔‘‘ اور خروج باب ۱۹ آیت ۱۰،۱۱ ’’اور خدا نے موسیٰ سے کہا کہ لوگوں کے پاس جا اور انہیں پاک کر اور ان کے کپڑے دُھلوا اور تیسرے دن تیار رہیں کہ خداوند تیسرے دن لوگوں کی نظر میں کوہ سینا پر اُتر آئے گا۔‘‘ اسلامی شریعت کے احکام سے انہیں مقابلہ کر لو صاف کُھل جائے گا۔اسلامی شریعت نے روحانیّت کی کیسی توجّہ دلائی ہے۔ذرارنگ یا پانی چھڑکنا اور چُلّو بھر…میں…کفارے والی بادشاہت میں داخل ہونے کی شرط قرار دی گئی ہے۔اس پر رسوم ظاہری سے انکار۔قرآن سُنئیے۔اس کے مقابل کیا فرماتا ہے۔ (البقرۃ :۱۶۹) رنگ اﷲ کا اور کِس کا رنگ اﷲ سے بہتر ہے۔یہی اعتقاد قدیم سے مسلمانوں میں چلا آیا ہے کہ طہارتِ باطنی ہی راساً مطلوب ہے چنانچہ اسلام کے قدیم فلاسفر امام غزالی ؒ نے ان لوگوں کی نسبت جو صرف ظاہری طہارت پر مَرتے ہیں اور