حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 517 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 517

میں ایسی اُلفت ڈالی کہ تم باہم بھائی بھائی ہو گئے۔رات کو دشمن ہوئے تھے صبح کو اخوان بن کر اُٹھے۔کیسا فضل ہے۔یاد رکھو جب کوئی مامور مِن اﷲ آتا ہے اُس وقت ایک نئی برادری پیدا ہوتی ہے، نئی اولاد پیدا ہوتی ہے اور نئے تعلّقات پیدا ہوتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ اس برداری کا نام اخوان رکھتا ہے۔سارے عرب میں قریش ایک معزّز اور برسر آوردہ قوم تھی اور قریش میں بنو ہاشم کا خاندان اور بنو ہاشم بھی نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا گھرانہ ممتاز اور معزّز تھا۔ں پھر دُنیا میں حقارت سے دیکھی ہوئی قوم غلاموں کی ہے مگر دیکھو کہ اسلامی اخوّت نے کیا کرشمہ دکھایا کہ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن زینب کا نکاح زید بن حارثہ سے کر دیا گیا تا دُنیا کو بتایا جاوے کہ اخوّت اِس کا نام ہے جو اسلام نے قائم کی ہے۔بلالؓ کا رشتہ قریش میں کرا دیا گیا۔حساّنؓ کا رشتہ ماریہ کی بہن سے کرا دیا۔غرض یہ ایک نمونہ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے دکھایا جو اﷲ تعالیٰ کے انعام میں سے تھا۔یہ سچّی بات ہے کہ جب تک اخوّت کا رنگ پیدا نہ ہو سِپَر بنانے کے ایک حصّہ سے محروم رہتا ہے۔پس یاد رکھو جماعت پر اﷲ تعالیٰ کا فضل اُسی وقت ہوتا ہے جب اخوّت کا مرتبہ پیدا کریں۔وہ اپنے چھوٹوں کی جو غرباء ہیں خبرگیری کریں اور کسی کو حقیر نہ سمجھیں۔(الحکم ۳۱؍جنوری ۱۹۰۱ء صفحہ۷) سب کے سب حبل اﷲ کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ نہ کرو۔مدرسوں میں رسّہ کشی کا ایک کھیل ہوتا ہے اور تم نے دیکھا ہو گا اس میںدو پارٹیاں ہوتی ہیں ایک ایک طرف اور دوسری دوسری طرف۔جس طرف کے لڑکے وحدت کے ساتھ مِل کر زور نہ لگائیں وہ جیت نہیں سکتے۔یہ لڑکوں کی فطرت میں ایک امر رکھ دیا ہے۔مسلمانوں کو بھی ایک حبل اﷲ دیا گیا ہے ان کا فرض ہے کہ وہ سب کے سب مِل کر زور لگا دیں… یاد رکھو کہ اگر پوری طاقت و ہمّت اور یک جہتی سے اِس حبل اﷲ کو مضبوط نہ پکڑو گے تو مخالفین اس رَسّہ کو لے جائیں گے ( خدا نہ کرے ایسا ہو) اِس رسّہ کو مضبوط پکڑنے سے یہ مطلب ہے کہ قرآن مجید تمہارا دستور العمل ہو۔تمہاری زندگی اس کی ہدایتوں کے ماتحت ہو۔تمہارے ہر ایک کام ہر حرکت ہر سکون میں جو چیز تم پر حکمران ہو وہ خدا تعالیٰ کی یہ پاک کتاب ہو جو نور اور شفا ہے۔یاد رکھو دُنیا ایک مدرسہ ہے اِس مدرسہ کی رسّہ کشی میں وہی کامیاب ہو گا جو حبل اﷲ کو ہاتھ سے نہ دے گا۔پس اِس وقت ضرورت ہے کہ تم میں عملی زندگی پیدا ہو تفرقہ نہ ہو۔مَیں پھر تمہیں اﷲ کا حکم سُناتا ہوں ۔(بدرجولائی ۱۹۱۲ء صفحہ ۵،۶)