حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 508
کاہن کو دے۔گنتی ۶ باب ۱۹ اور دیکھو پیدائش ۸ باب ۲۰ و ۱۲ باب ۸۔کثرتِ قربانی۔۲ تاریخ ۷ باب ۵۔سلاطین ۸ باب ۵ میں دیکھنے کے قابل ہے۔ہاں اِتنی بات رہ گئی۔مقدّسہ کتب میں اجتماع کے لئے ترئی اور ناقوس کی اَبدی رسم ہے۔اِسلام نے اس کے بدلے کہیں اذان کے لطیف کلمات اور حج میں۔لَبَّیْکَ لَبَّیْک اَللّٰھُمَّ لَبَّیْک لَا شَرِیْکَ لَک لَبَّیْکَ۔اِنَّ الْحَمْدَ وَ النِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَک۔توجّہ اِلی الِقبلہ۔سچّ ہے شک نہیں۔سجدہ پر لے درجے کا عجز اور نیاز ہے۔یہ عمدہ فعل ضرور ہے کِسی طرف واقع ہو اور کوئی طرف ہو، اس میں مخلوق کا ہونا ضروری ہے ابس لئے شارع نے خود ایک جہت مقرر کر دی جس میں کئی فائدے ہیں۔اوّل:یہ اشارہ کہ سب کو چاہیئے ایک دل ہو کر معبودِ حقیقی کی عبادت کریں۔دومؔ: اہلِ اسلام اور منافقین میں مابہ الامتیاز ہو۔اِسی واسطے مکّے میں آپ بَیت المقدس کی طرف مُنہ کر کے نماز پڑھتے تھے اور مدینے میں جب تشریف لائے تو بعد چند مدّت کے مکّے کی طرف توجّہ فرمائی۔قرآن خود اس سِرّ اور بھید سے آگاہ کرتا ہے جہاں فرماتا ہے وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْھَا اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیْہِ۔سومؔ:جماعت کے اِنتظام میں خلل نہ ہو اور تمام دُنیا کے اہلِ اسلام یک جہت رہیں۔چہارمؔ:قبلے کی طرف مُنہ کرنا۔ملّتِ ابراہیمی کا نشان اور ان کی اولاد کا معمول ہے۔دیکھو یشوع اور سارے اسرائیلی بزرگوں نے اپنے کپڑے پھاڑے اور خدانود کے عہد کے ندوق کے آگے شام تک اوندھے پڑے رہے۔یشوع ۷ باب ۶۔ا۔سلاطین ۸ باب ۲۸۔۴۸۔ترکیب آنے کی مقدس میں احبار ۱۶ باب۔ملاکی ۳باب ۱۴۔اور تیرے آگے سجدہ کرینگے۔وے تیرے آگے منّت کریں گے اور کہیں گے۔یقینا خدا تجھ میں ہے۔یسعیاہ ۴۵ باب ۱۴۔دانیال اپنی کوٹھڑی کا دریچہ جو یروشلم کی طرف تھا کھول کر دن میں تین دفعہ گھٹنے ٹیک کر اور داؤد بیت ایل کی طرف خدا کے حضور دعا اور شکر گزاری کرتے رہے۔دانیال ۶ باب ۱۰۔زبور ۹۹۔۹ زبور ۱۳۸۔۲۔