حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 506 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 506

صرف دُنیوی خیال ہے جو فانی اور غیر بقی ہے۔اُن کو عظمتِ الہٰی سے کچھ سروکار نہیں۔اسلامی میلہ عید کا دُنیا کے میلوں سے رُوحانیّت میں بڑھا ہؤا ہے۔اَب تمام اہل اسلام کے اجتماع کے لئے صدر مقام کی ضرورت تھی تاکہ مختلف بلاد کے بھائی اور اسلامی رشتے کے سلسلے میں یکتا باہم مِل جاویں مگر ایسے اجتماع کے لئے اوّل تو کُل اہلِ اسلام کا اکٹھا ہونا اور امیر و فقیر کا جانا محال تھا۔علاوہ بریں فقراء اور محتاجوں کے جانے میں کوئی بڑے فائدے مترتّب ہونے کی امّید بھی نہیں ہو سکتی تھی اِس لئے حکم ہؤا   اور یہ بھی ہے کہ امراء کے حق میں عیش اور کِبری ہی مُہلک امراض اور ترقّی کے دشمن ہیں۔دُور و دراز کا سفر کرنا، احباب و اقارب کو چھوڑنا ، سردی اور گرمی کی برداشت کرنا، مختلف بلاد کے علوم اور فنون اور اقسام مذاہب اور عدات پر واقف ہونا سُستی اور نفس پروری کا خوب استیصال کرتا ہے۔حج کے اعمال کبرو بڑائی کے سخت دشمن ہیں۔زیب و زینت کو ترک کرنا، غرباء کے ساتھ ننگے سَر کو سوں چلنا، دُنیاداروں ، مستوں عیّاشوں کو کیسی کیسی ہمّت بڑھانے کا موجب ہے۔غرض حج کیا ہے۔اسلامیوں کو تجربہ کار اور ہوشیار بنانا ہے۔بے رَیب ایک ملک کے فوائد کو دوسرے ملک تک پہنچانے میں جیسی طاقت دولتمند رکھ سکتے ہیں ویسی علی العموم غریب لوگ نہیں رکھ سکتے۔ایسے صدر مقام کے لئے کونس مکان تجویز ہوتا۔پس مکّہ معظّمہ سے کوئی مکان بہتر نہ تھا کیونکہ اوّل تو وہ مقام مبدأ اسلام تھا۔دومؔ اس میں ایسے لوگوں کی یادگاری تھی جن کی سعی اور کوشِش سے سخت سے سخت بُت پرستی کا دُنیا میں استیصال ہؤا اور خالص الہٰی توہید قائم ہوئی۔تمام مساعیٔ جمیلہ اشاعتب اسلام کے جن لوگوں سے سرزد ہوئے ان کا اصل مولد وہی شہر تھا اگر کوی چیز یادگار جوش دلانے والی دُنیا میں ہو سکتی تھی تو مکّے سے بہتر کوئی بھی نہیں۔اِلّا امراء کے ساتھ جن پر حج فرض ہے ممکن بلکہ ضرور تھا کہ ان کے نوکر چاکر بھی حج کرنے کو ساتھ جاویں اور کچھ لوگ غرباء میں سے عشق کے مجبور کئے ہوئے بھی وہاں پہنچیں۔اِس لئے اِسلام نے بغرض کمال اتحاد احلِ اسلام تجویز فرمایا کہ سب لوگ سادہ دو جادروں پر اکتفاء کر کے امیر و غریب ہیکساں سر سے ننگے، کُرتے سے الگ، سادہ وضع پر ظاہر ہوں تاکہ ان کی یکتائی اور اِتحاد کامل درجے پر پہنچے۔۱۔اس حالت کا نام اِحرام ہے۔کچھ عقلی حُسن اس کا سُن چکے ہو کچھ اَور سُن لو۔زیب و زینت