حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 505
اہل محلہ کے روزانہ اجتماع کے لئے پانچ وقت کی جماعت کو واجب کیا۔رات کو سب لوگ اپنے گھروں میں سوتے ہیں۔شبینہ واقعات میں اگر ہمدردی کی ضرورت ہے تو علی الصّباح نمازِ فجر کی جماعت میں یہ امر حاصل ہے۔اَب بازار کی آمد و رفت شروع ہوئی۔مختلف معاملاتِ خارجیہ پیش آئے تو دوپہر کے بعد جماعت کا وقت آ گیا۔عصرروزانہ اَوقات کا اختتام ہے اور ابھی اہل تجارت و حرفہ غالب عمرانات میں گھر نہیں پہنچے۔عین اس وقت کے معاملات پر اگر ہمدردی کی ضرورت ہے تو عصر کی جماعت کا عمدہ موقع ہے۔شام کو گھر پہنچے وہاں کے نئے معاملات جو غیبوبت میں ہوئے اگر باعثِ اجتماع ہیں تو جماعتِ نمازِ شام اس کے لئے موزوں ہے۔نو دس بجے رات کو الگ الگ ہونے کا وقت آ گیا۔مناسب ہے سب آپس میں الوداعی رخصت کر لیں اور یہی عشاء کا وقت ہے۔اِس روزانہ پانچ وقت کے اجتماع میں اگر تمام اہلِ بلا د کو تکلیف دی جاوے تو ایک قِسم کی تکلیف مالا یُطاق ہے اس لئے تمام شہر کے اہلِ اسلام کے لئے ہفتے میں ایک دِن جُمعے کا اس اجتماع کے لئے تجویز ہؤا۔لاکن اِس اجتماع کے لئے حفظِ صِحت کے سامان کے واسطے نہانا، کپڑے بدلنا، صفائی ایک ضروری تھا۔بنا براں اس کا وقت قریب نصف النّہار تجویز کیا گیا اور اس میں موسٰیؑ والی تشدید کہ سبت میں کام کرنے والے کو جَلا دیا جائے عالمگیر مذہب میں ، جس کا نام اسلام ہے، مناسب نہ سمجھی۔زیادہ دیر تک اجتماع کو مُخلِّ صِحت خیال کر کے اصل نماز سے اِس نماز کو نصف کر دیا گیا اور ایک خطیب ( اسپیکر) کو حکم دیا گیا کہ ضروریات پر کھڑے ہو کر لیکچر دے اور بعد نماز جمعہ کے حکم ہے چلے جاؤ اور مُنتشر ہو جاؤ قصبات اور دیہات کے اجتماع کے لئے عید کی نماز تجویز ہوئی۔چونکہ یہ جلسہ بھاری اور سال میں کُل دو دفعہ ہوتا تھا اور اس میں لوگوں کی کثرت تھی اِس لئے تبدیل لباس اور عطر و خوشبو کا لگانا جیسے جمعے میں حکم تھا اِس میں بھی رہا اور زیادہ تر اجتماع کے لحاظ سے حکم ہؤا۔عید کا جلسہ شہر سے باہر میدان میں ہوتا کہ فریش ایئر(تازہ ہَوا ) کی روک نہ رہے۔چونکہ میدان محلِ انجمن ٹھہرا اور غالب عمرانات میں دُھوپ کا خوف ہؤا اِس لئے ابتدائے روز عید کا وقت ٹھہرایا گیا۔عید میں رُوحانی محرّک دو رکعت نماز ہے اور بعد نماز کے ضروری ضروری باتوں پر لیکچر ہے ( جسے خطبہ کہتے ہیں)۔تمام قوموں میں میلوں کا رواج ہے اور میلوں کا ہونا عمدہ مصالح دُنیوی پر مبنی ہے۔کُل مذاہب اور تمام اقوام کے میلے خالص توحید سے بالکل بے بہرہ ہیں۔کہیں غیر اﷲ کی پرستش ہے کہیں