حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 504
:پھر اس مکّہ کی اوّل تو یہ خصوصیّت ہے کہ اس میں ابراہیمؑ کی عبادت گاہ ہے یہودی ،عیسائی اپنے متبوع کی کوئی جگہ پیش نہیں کر سکتے جو ان کے قبضہ میں ہو۔دوسری آیت اور دوسری جگہ فرمایا (العنکبوت:۶۸)کے سارے جہاں میں افراتفری پڑی ہے پر مکّہ میں نہیں۔تیسری آیت۔جو یہ نہیں سمجھتا وہ یہ پیشگوئی سُن لے کہ حج بَیت اﷲ کا لوگوں میں رہے گا۔: اور جو باوجود ان دلائل کے کُفر کرے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم و ۸؍جولائی ۱۹۰۹ء) :یہود و نصارٰی کے لئے عزّت کا مقام ہے۔:بہت بڑی پیشگوئی۔دُنیا میں سلطنتیں بدل جائیں مگر مکّہ کی حُرمت اور حج یَوم القیامت تک قائم۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ۴۴۷) مکّہ معظّمہ تیسرا مظہر اسلام کا اِس دُنیا میں ہے اور اس مکّہ معظّمہ کی نسبت ارشاد ہے: اوّل۔۔(پھر اِن آیاتِ بیّنات کا بیان کیا ہے جیسے فرمایا) ۔ … اوّلؔ یہ کہ مکّہ مقامِ ابراہیمؑ ہے۔دومؔ اس میں داخل ہونے والوں کیلئے امن ہے۔سومؔ اس کا حج کرنا لوگوں کے ذمّہ لگایا گیا ہے۔(نورالدین صفحہ ۲ب (ایڈیشن سوم) :کُل دُنیا کی ترقّی کا مدار قومی اِجتماع پر ہے۔تمام مہذّب بلا د میں جب تہذیب شروع ہوئی اُس وقت بھی کلب و انجمنیں بنیں۔حضور علیہ السّلام کے دین میں اﷲتعالیٰ نے قومی اجتماع کے عجیب و غریب سامان تجویز فرمائے اور ایسے رُوحانی محرّک اُن میں رکھے جس کے باعث ان انجمنوں کے برہم ہونے کا خطرہ نہ رہا۔