حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 503
قربانیاں، کبھی غیر اﷲ سے دعائیں مانگتا ہے، کبھی اس سے حاجتیں طلب کرتا ہے۔یہ محبّت میں غلّو ہے جو افراط کی راہ ہے۔اس میں خدا کے حق میں تفریط ہے۔:مگر ابراہیمؑ میں یہ عیب نہ تھا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم و ۸؍جولائی۱۹۰۹ء) مکّہ معظّمہ کی مسجد چونکہ ابوالحنفاء، شِرک سے پورے بیزار ابراہیمؑ سے بلکہ اس سے بھی پہلے الہٰی عبادت کے لئے بنائی گئی اِس واسطے وہ بَیت اﷲ کہلائی۔جیسے فرمایا: ۔پہلا گھر جو ( خدا کی عبادت کے لئے ) قوموں کے لئے بنایا گیا وہ مکّہ میں ہے۔مبارک اور ہدایت ہے لوگوں کے لئے۔( نورالدین ( ایڈیشن سوم) صفحہ ۱۵۳) پھر عظیم الشّان ثبوت اِس بات کا کہ ابراہیمؑ کو کیوں مانیں؟ کیا تورات کو چھوڑ دیں؟ یہ ہے کہ سب سے پہلے خدا کی خالص توحید کے لئے جو گھر بنایا گیا ہے وہ وادیٔ مکّہ میں ہے۔مکّہ کہتے ہیں اس مقام کو جہاں لوگوں کا بڑا اژدہام ہو۔:برکت دیا گیا۔دیکھو یہیں وہ مبارک وجود تھا جو اہلِ اَرض کے لئے امان تھا۔اِسی گھر میں ابوبکر و عمر و عثمان و علی پیدا ہوئے رضوان اﷲ علیہم۔اسی میں طلحہ و زبیر۔چنانچہ خدا نے فرمایا (النّور:۳۸) (النّور:۳۷) اﷲ نے اس کے گھر کے لوگوں کو بڑا بنانا چاہا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم و ۸؍جولائی۱۹۰۹ء)