حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 487
یہ ٹھیک دلیل یا بات ہے تیرے ربّ کی طرف سے ( حضرت مسیحؑ میں بشریّت سے بڑھ کر کوئی بات نہ تھی۔معجزے ، عجائبات، عمدہ تعلیم یہ باتیں انبیاء میں ہؤا کرتی ہیں حالانکہ وہ بَشر ہؤا کرتے ہیں) پھر کبھی نہ ہو گا تُو او مخاطب! یا کبھی نہ رہیو شک کرنے والا۔(ابطال الوہیّت مسیحؑ صفحہ ۲۱) : یعنی مباہلہ کر لیں۔کاذبوں پر لعنت ڈالیں پھر دیکھیں کِس پر خدا کا عذاب آتا ہے اور کون قوم اس کی رحمت سے دُور ہوتی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍ جون ۱۹۰۹ء) اگر کوئی نادان اِس دلیل کے بعد پھر بھی حجتیںکرے تو ایسے احمقوں سے یوں مقابلہ چاہیئے کہ ان سے مباہلہ کرو اور کہو آؤ بلائیں اور لائیں اپنی اور تمہاری اولاد اور عورتیں تمہاری اور اپنی اور اپنے آدمی اور تمہارے۔پھر عاجزی سے دعا مانگیں کہ الہٰی لعنت ہو جھوٹوں پر۔(ابطال الوہیّت مسیحؑ صفحہ۲۱)