حقائق الفرقان (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 486 of 581

حقائق الفرقان (جلد ۱) — Page 486

فیصلہ کیا کیونکہ کَفَرُوْاسے مراد مسیحؑ کے کافر ہیں۔اب سچّے اور جُھوٹے متّبع کا فرق بتلاتا ہے۔مسلمان کہتے ہیں ہم مسیحؑ کے سچّے پَیرو ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ ہم۔فرمایااِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اﷲِ کَمَثَلِ اٰدَمَعیسٰیؑ کی مثال آدمؑ کی مانند ہے۔اس کو ہم نے تراب سے پیدا کیا پھر وہ مَر گیا اور مرنے کے بعد سے سے قیامت کے دِن زندہ ہو گا۔اِسی طرح عیسٰیؑ بھی مر چکا اور قیامت کو زندہ ہو گا۔جس گروہ کے عقائد یہ ہیں وہی حق پر ہیں۔اگر تم اس کی الوہیّت کے قائل ہو تو کوئی دلیل دو۔آدمؑ کا مثیل ہونے سے اس کی بشریّت ظاہر ہے۔دُنیا نے اس کو دیکھا کہ وہ انسانوں کی طرح کھاتا پیتا، ہگتا مُوتتا رہا پھر وفات بھی پا گیا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍جون ۱۹۰۹ء) :باقی رہا مسلمانوں اور عیسائیوں کا فیصلہ سو وہ اِس دلیل سے ہا رجاتے ہیں۔ابنِ آدمؑ تو وہ مانتے ہیں۔الوہیّت کا ثبوت ان کے ذمّے۔:خلق ہو چکا۔پس یہ کُنْ موت کے بعد پر ہے۔اس سے وفاتِ مسیحؑ کا ثبوت ملتا ہے۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۴۶، ۴۴۷) اورمومن اور جنہوں نے اچھے عمل کئے پس ان کو پُورا اجر ملے گا اور اﷲ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔یہ پڑھتے ہیں تجھ پر تیری نبوّت کے نشانوں سے اور تذکرہ ہے حِکمت والا۔اب اﷲ وہ فیصلہ دیتا ہے جس کا اَتباع کے باہم اختلاف میں وعدہ فرمایا تھا۔عیسٰیؑ آدمی کی طرح ہے۔آدمی کو اﷲ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا پھر اس کو دوسرے تیسرے تولّد نئی زندگی نبوّت کے واسطے منتخب فرمایا اور وہ ایسا ہی ہو گئے۔(ابطال الوہیّت مسیح صفحہ۲۱) کے معنے ہو جا۔کے معنے ہو جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اﷲ تعالیٰ کِسی چیز کے وجود کو چاہتا ہے اسی طرح وہ چیز ظہور میں آ جاتی ہے… اصل بات یہ ہے کہ کا تعلق بعد الموت ہؤا کرتا ہجے۔تمام قرآن کریم میں مرنے کے بعد جی اُٹھنے پر ْ فرمایا ہے۔(نورالدین (ایڈیشن سوم) صفحہ ۹۲)  پس اے مخاطب! تیرے رَبّ کی طرف سے یہی بات حق ہے۔تو شک میں نہ ہو۔اس پر بھی جو نہ مانے۔اس کے لئے آخری فیصلہ بتایا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍جون ۱۹۰۹ء)